وانا: سو مشتبہ شدت پسند گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ وانا میں کارراوئی کے دوران سو سے زائد مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ القاعدہ اور طالبان ارکان کے خلاف کارروائی کے آخری مراحل میں داخل ہونے پر پاکستانی فوج کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ گرفتار ہونے والوں میں اسامہ بن لادن اور ان کے نائب ایمن الظواہری کے ہونے کا امکان معدوم ہے۔ چند دن قبل صدر پرویز مشرف نے کہا تھا کہ فوج نے انتہائی اہم ٹارگٹ کے گرد گھیرا ڈال دیا ہے۔ دریں اثناء ہفتے کے روز پاکستانی فوج نے جنوبی وزیرستان میں توپ خانے سے مشتبہ القاعدہ اور طالبان ارکان کے خلاف کارروائی پھر سے شروع کر دی ہے۔ اس علاقے میں تقریباً چار سو افراد موجود ہیں جن پر القاعدہ ارکان کو پناہ دینے یا ان کی حمایت کرنے کا شبہہ ہے۔ پاکستانی فوج کے کوبرا گن شپ ہیلی کاپٹر زمینی دستوں کے مدد کر رہے ہیں لیکن ابھی تک شدت پسندوں کے ہتھیار ڈالنے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ مسلح شدت پسندوں اور پاکستانی فوج کے درمیان گزشتہ تین روز سے جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ ہفتے کو جب پاکستان فوج نے توپ خانے کی مدد سے کارروائی کا آغاز کیا تو شدت پسندوں نے جوابی کارروائی میں مارٹر اور راکٹ داغے۔ اس فوجی آپریش کے نگران بریگیڈیئر محمود شاہ نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج نے اپنا گھیرا تنگ کر لیا ہے اور توقع ہے کہ سنیچر کی شام تک کامیابی حاصل ہو جائے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ کچھ کارروائی اتوار تک چلی جائے۔ بی بی سی ارود سروس کو آپریشن کی تازہ ترین صورتحال بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جگہ جگہ مزاحمت ہو رہی ہے اس وقت بھی فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے اور مشتبہ افراد ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک دو لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں جو غیرملکیوں کی لگتی ہیں۔ اس کے علاوہ تقربیاً بیس افغان اور غیرملکی باشندوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے اور ان کی شناخت کی جا رہی ہے۔ محمود شاہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز دو گاڑیوں نے علاقے سے نکلنے کی کوشش کی مگر فوج کی فائرنگ کے بعد انہیں واپس جانا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ مزاحم افراد کے پاس بندوقیں، ہلکی مشین گنیں، بھاری مشین گنیں، راکٹ اور مارٹر ہیں۔ ان لوگوں نے پاکستانی فوج کے ہیلی کاپٹروں پر راکٹ بھی داغے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||