’القاعدہ مخالف فوجی آپریشن جاری‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کے روز ہونے والے تصادم میں سولہ فوجیوں سمیت چالیس افراد ہلاک ہوئے تھے پاکستانی فوج کا مبینہ طور پر قبائلی علاقوں میں چھپے ہوئے سینکڑوں القاعدہ ارکان کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ پاکستانی فوج گن شپ ہیلی کاپٹر اور توپوں کی مدد سے القاعدہ ارکان کے مبینہ ٹھکانوں پر حملہ کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سینکڑوں القاعدہ ارکان کچے گھروں میں چھپے ہوئے ہیں۔ یہ کارروائی جنوبی وزیرستان کے دوردراز علاقے میں ہو رہی ہے۔ گزشتہ دو روز سے اس علاقے میں قبائلیوں کی مزاحمت اس قدر شدید ہے کہ حکام کا شک یقین میں بدلتا جارہا ہے کہ علاقے میں القاعدہ کی اہم شخصیت روپوش ہے جس کے دفاع کے لئے مزاحمت میں شدت آرہی ہے۔ جمعرات کی رات کو کہا گیا تھا کہ پاکستان کی سکیورٹی افواج نے افغانستان کے ساتھ سرحد پر واقع قبائلی ایجنسی جنوبی وزیرستان میں ایک بڑے علاقے کا گھیراؤ کررکھا ہے جہاں القاعدہ اور طالبان کے سینکڑوں مشتبہ افراد فوجی آپریشن کی سخت مزاحمت کررہے ہیں۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس کے مطابق پاک فوج کے ہزاروں اہلکار اس آپریشن میں شامل ہیں جو گزشتہ دو سال میں القاعدہ کے خلاف کی جانے والی سب سے بڑی کارروائی ہے۔ وانا کے نزدیک کئے جانے والے اس آپریشن میں ایک درجن سے زائد گن شپ ہیلی کاپٹر استعمال کئے جارہے ہیں۔ حکام کے مطابق پاک فضائیہ کو بھی ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ اس سے قبل پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں فوجیوں نے القاعدہ کے ان جنگجوؤں کے گرد گھیرا تنگ کردیا ہے جو تنظیم کی ایک انتہائی اہم شخصیت کا دفاع کررہے ہیں۔ صدر مشرف نے سی این این کو بتایا تھا کہ’ہمیں یوں محسوس ہو رہا ہے کہ وہاں کوئی انتہائی اہم شخصیت ہے جو فوج کو مطلوب ہے۔ تاہم ابھی میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ کون ہو سکتا ہے‘۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا قبائلی علاقے میں شدید جھڑپیں ہو رہی ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ فوج مخالف پارٹی کی جانب سے شدید مزاحمت کی گئی ہے جس سے انداز ہ ہوتا ہے کہ وہاں القاعدہ کا کوئی اہم رکن ہے۔ اس آپریشن کی نگرانی کرنے والے فوجی حکام نے کہا تھا کہ عین ممکن ہے کہ اس علاقے میں القاعدہ کی ایک اہم شخصیت موجود ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||