اسامہ کے لئے نئی کارروائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی افواج کے سربراہ جنرل رچرڈ مائر نے کہا ہے کہ مصدقہ اطلاعات کے بعد کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن زندہ ہیں اور افغانستان میں چھپے ہوئے ہیں، امریکہ کی فوج افغانستان میں انہیں گرفتار کرنے کے لئے اپنی کارروائیاں تیز کر رہی ہے۔ جنرل مائر کا کہنا تھا کہ اسامہ کے بارے میں اطلاع ملی ہے کہ وہ سرحدی علاقوں میں القاعدہ کے دوسرے رہنماؤں کے ساتھ موجود ہیں۔ پشاور میں افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ افغانستان کے علاقے خوست میں نئی امریکی کارروائی کی اطلاعات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس جگہ نئی امریکی کارروائی کی اطلاع ہے وہ جگہ پاکستان کی سرحد سے صرف پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ رحیم اللہ یوسفزئی نے بتایا کہ اس مقام پر واقع دیہات میں امریکی فوجی گھر گھر کی تلاشی لے رہے ہیں، ہر جگہ ناکے لگا دیئے گئے ہیں اور جو کوئی گاڑی بھی اس طرف کا رخ کرتی ہے اس کی تلاشی لی جاتی ہے۔ اس کارروائی کا مقصد وہی امریکی اطلاعات ہیں کہ اسامہ بن لادن اس علاقے میں کسی جگہ موجود ہیں۔ امریکی فوج نے اس علاقے سے اسلحہ بھی پکڑا ہے اور کئی مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ علیزئی کے علاقے میں پاکستان کی فوج اور ملشیا بھی حرکت میں آئی ہے لیکن پاکستانی حکام اس بات سے انکار کر رہے ہیں کہ پاکستانی فوج یا ملشیا اور امریکی فوج اس علاقے میں کسی بھی مشترکہ فوجی کارروائی میں شامل ہے۔ رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ماضی میں اکثر ایسا ہوا ہے کہ جب بھی امریکہ نے افغانستان میں کسی جگہ فوجی کارروائی کی ہے اس نے پاکستان کی فوج سے کارروائی میں شمولیت کی بھی درخواست کی ہے ۔ تاہم بی بی سی کے تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ملنے والی اکثر اطلاعات ماضی میں غلط ثابت ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ مان لیا جائے کا اسامہ بنا لادن زندہ ہیں اور اسی علاقے میں ہیں تو انہیں بھی یقیناً اس امریکہ کارروائی کی اطلاع ہوگی اور وہ اس مقام سے کسی دوسری طرف چلے جائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||