اسامہ بن لادن پھر بچ نکلے: افغان اہلکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں ایک حکومتی اہلکار کا کہنا ہے کہ انہیں قابلِ اعتبار اطلاعات ملی ہیں کہ القاعدہ تنظیم کے سربراہ اسامہ بن لادن کو پاکستان میں گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ اہلکار نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ تین روز قبل طالبان کے ایک سابق رکن کو فیکس کے ذریعے بتایا گیا تھا کہ اسامہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اسامہ بِن لادن کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ پاک، افغان سرحد پر پہاڑی علاقے میں روپوش ہیں۔ اس وقت امریکی فوج نے القاعدہ کے رہنما کی گرفتاری کے لئے کوششیں تیز کی ہوئی ہیں۔ مشرقی افغانستان میں توڑا بوڑا کے پہاڑوں میں اسامہ بِن لادن کی سابق کمین گاہ کی نگرانی بھی سخت کر دی گئی ہے۔ افغان اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کی طالبان کے ایک سابق رُکن سے ملاقات ہوئی ہے جنہیں فیکس پر پیغام ملا ہے کہ ’شیخ زندہ اور خیریت سے ہیں‘۔ شیخ کی اصطلاح عام طور اسامہ بِن لادن کے حمایتی اُن کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ افغان اہلکار نے بتایا کہ پیغام پر لکھا ہوا تھا کہ اسامہ بِن لادن پاکستانی فوج کی طرف سے جنوبی وزیرستان میں کی جانے والی کارروائی میں بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ طالبان کے سابق رُکن کی طرف سے فیکس پر مذکورہ پیغام ملنے کا دعویٰ اس چیز کے پیش نظر حیران کن ہے کہ آجکل توقع کی جاتی ہے کہ امریکی فوج اور خفیہ ادارے برقیاتی رابطوں کی نگرانی کر رہے ہوں گے۔ تاہم افغان اہکار کا کہنا ہے کہ وہ اس پیغام کو صحیح سمجھتا ہے اور اس نے اس کی اطلاع حکومت تک پہنچا دی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||