| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ خبردار رہے:اسامہ کی دھمکی عربی کے ٹیلی وژن چینل الجزیرہ نے اسامہ بن لادن کا ایک نیا پیغام نشر کیا ہے جسے ٹیپ کے ذریعے اسامہ کے مبینہ پیغامات کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی قرار دیا گیا ہے۔ اس ٹیپ پر موجود آواز جو مبینہ طور پر اسامہ بن لادن کی ہے، امریکہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ عراق سے اپنی فوج واپس بلا لے۔ ٹیپ میں امریکہ کو خبردار کیا گیا ہے کہ امریکہ کے اندر اور باہر مزید خود کش حملے ہوں گے۔ مبینہ طور پر اسامہ کے نئے پیغام میں عراق کے اندر امریکیوں پر ہونے والے مسلسل حملوں کی تعریف کی گئی ہے۔ امریکہ پر گیارہ ستمبر کے حملوں کے لئے اسامہ بن لادن کی القاعدہ کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے اور امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف اعلانِ جنگ کر رکھا ہے۔ اسامہ کا نیا پیغام ایسے وقت آیا ہے جب عراق میں مرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد ایک سو ہو گئی ہے۔ ہفتے کو عراق کی حکمراں کونسل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے اور تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بیان میں عراقی عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تشدد سے باز رہیں اور یہ کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالا نہیں ہے لہذا جو بھی قانون شکنی کرے گا اسے سزا دی جائے گی۔ امریکہ پر خود کش حملوں کے بعد سے الجزیرہ ٹیلی وژن کو اسامہ بن لادن یا ان کے ساتھیوں کے کئی پیغام موصول ہوئے ہیں۔ اسی سلسلے کا آخری پیغام گزشتہ ماہ اٹھائیس تاریخ کو نشر کیا گیا تھا جس می اسامہ کے ساتھی ایمن الزواہری نے پاکستان میں مسلمانوں پر زور دیا تھا کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت کا تختہ الٹ دیں۔ ہفتے کو نشر ہونے والا پیغام دو حصوں میں تھا۔ پہلے حصے میں دنیا بھر کے نوجوان مسلمانوں سے، خصوصاً ’ہمسایہ ممالک اور یمن کے مسلمانوں‘ کہا گیا کہ وہ عراق جا کر جہاد کریں۔ دوسرے پیغام کے مخاطب امریکی عوام ہیں جن سے کہا گیا ہے: ’ہم آپ کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے اور امریکہ کے اندر اور باہر شہادت پر منتج ہونے والی کارروائی اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک آپ لوگ ناانصافی کا خاتمہ نہیں کرتے۔‘ پیغام میں کہا گیا ہے: ’ہم ہر اس ملک کے خلاف مناسب وقت پر جوابی حملے کا حق محفوظ رکھتے ہیں جو اس غیر منصفانہ جنگ میں شامل ہے یعنی برطانیہ، سپین، آسٹریلیا، پولینڈ، جاپان اور اٹلی۔‘ پیغام کے مطابق وہ اسلامی ملک ، خصوصاً خلیج کے ممالک بالخصوص کویت، جو اس ’غیر منصفانہ‘ جنگ میں شریک ہوں گے، انہیں بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔ سی آئی اے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیپ پر موجود آواز غالباً اسامہ بن لادن ہی کی ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس وڈیو کو کب تیار کیا گیا تھا جس میں اسامہ بن لادن اور ان کے ساتھی الزواہری دکھائی دیتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||