BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 March, 2004, 15:02 GMT 20:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وزیرستان میں 400 جنگجوؤں کا گھیراؤ‘

وانا آپریشن
منگل کے روز ہونے والے تصادم میں سولہ فوجیوں سمیت چالیس افراد ہلاک ہوئے تھے
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں جمعہ کے روز بھی پاکستانی فوج اور القاعدہ کے ارکان اور حامیوں کے درمیان لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ فوجی حکام نے کہا ہے کہ القاعدہ کے تقریباً چار سو مشتبہ افراد کے گرد گھیرا تنگ کردیا گیا ہے اور لڑائی میں شدت آگئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی فوجی کاروائیوں کا دائرہ مزید دو قریبی دیہاتوں تک بڑھا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق علاقے میں القاعدہ کے غیر ملکی ارکان کی وائرلیس پر بات چیت سنی گئی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ وہ کوئی غیرملکی زبان استعمال کر رہے ہیں۔

پاکستان کے فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا ہے کہ فوجیوں نے تقریباً تین سو سے چار سو جنگجوؤں کا گھیراؤ کر رکھا ہے اور وہ اس گھیرے کو توڑنے کے لئے مسلسل مزاحمت کررہے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنگجو آخری دم تک مزاحمت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز فوجیوں سے بھرے ایک سو ٹرک وانا پہنچے ہیں۔ تازہ دم فوج کی آمد کا سلسلہ جمعرات کی رات سے جاری ہے۔ یہ فوجی ہلکے اور بھاری اسلحے کی ساتھ مسلح ہیں جس سے علاقے میں جاری لڑائی کے جاری رہنے کا امکان ہے۔

فوج کی جانب سے جانی نقصان کے بارے میں ابھی بھی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ صرف ایک مکان پر گولہ گرنے سے ایک قبائلی شخص ہلاک اور اس کے کئی گھر والوں کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے زخمیوں کی تصدیق کی ہے لیکن مزید تفصیل نہیں بتائی ہے۔

پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کو علاقے سے فرار کی کوشش کرنے والے افراد کی دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے البتہ اس میں کسی جانی نقصان کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔

الزواہری
قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ جنگجو، اسامہ بن لادن یا ایمن الزواہری کا دفاع کررہے ہیں

ادھر وانا میں مقامی قبائل نے جمعہ کو جنگ بندی کی ایک کوشش کی لیکن حکومت نے وہاں مبینہ طور پر روپوش غیرملکیوں کو حکام کے حوالے کرنے کے لیے انہیں دوپہر تک کی مہلت دی جس کا بظاہر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

بعد میں پشاور میں گورنر سرحد لیفٹینٹ جنرل (ر) سید افتخار حسین شاہ نے ایک قبائلی وفد سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ایک جرگہ تشکیل دیا گیا جو ہفتے کے روز وانا جا کر وہاں کے قبائل سے مزاحمت بند کردینے اور غیر ملکیوں کو حکام کے حوالے کرنے کی کوشش کرے گا۔ وفد کی سربراہی سابق وفاقی وزیر فرید اللہ کریں گے جبکہ خیبر سے وارث خان، ہدایت اللہ مہمند اور دلاور مہمند کے علاوہ کئی دیگر قبائلی مشران شامل ہوں گے۔

مبصرین کے خیال میں یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ پاکستانی سیکورٹی دستوں کو اس طرح کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سے قبل بھی علاقے میں جتنے آپریشن ہوئے ان میں بھی شدید مزاحمت کی وجہ سے پاکستان فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

پاکستانی فوج اس کارروائی میں گن شپ ہیلی کاپٹر اور توپوں کا استعمال کررہی ہے۔

گزشتہ دو روز سے اس علاقے میں قبائلیوں کی مزاحمت اس قدر شدید ہے کہ حکام کا شک یقین میں بدلتا جارہا ہے کہ علاقے میں القاعدہ کی اہم شخصیت روپوش ہے جس کے دفاع کے لئے مزاحمت میں شدت آرہی ہے۔

جمعرات کو پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں فوجیوں نے القاعدہ کے ان جنگجوؤں کے گرد گھیرا تنگ کردیا ہے جو تنظیم کی ایک انتہائی اہم شخصیت کا دفاع کررہے ہیں۔ جس کے بعد سے یہ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ یہ شخص ممکنہ طور پر اسامہ بن لادن یا ایمن الزواہری ہے۔ تاہم طالبان کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ دونوں افغانستان میں کہیں محفوظ مقام پر ہیں۔

ایمن الزواہری کا نام سامنے آنے کی ایک دوسری وجہ گزشتہ دنوں اسی علاقے میں ایک کاروائی میں اس کے بیٹے خالد الزواہری کی گرفتاری کی افواہیں بھی تھیں جن کی تردید کردی گئی تھی۔

یہ آپریشن گزشتہ دو سال میں القاعدہ کے خلاف کی جانے والی سب سے بڑی کارروائی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد