33 ہلاکتوں کے بعد وانا میں کشیدگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی نیم خود مختار قبائلی ایجنسی جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں نیم فوجی دستوں اور قبائلیوں کے درمیان منگل کے خونی تصادم کے بعد علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ فرنٹیئر کور کے اس آپریشن میں کم سے کم تینتیس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔
بدھ کو وانا کی سڑکوں پر ایف سی کی جلی ہوئی گاڑیاں کھڑی ہیں اور کچھ تو ابھی بھی جل رہی ہیں۔ وانا کے نزدیک ایک ایسی ہی گاڑی سے ایک جلی ہوئی لاش بھی ملی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ رات بھر دھماکوں کی آوازیں سنتے رہے۔ تاہم بدھ کی صبح تازہ جھڑپوں کی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔ کچھ اطلاعات کے مطابق ابھی علاقے میں القاعدہ کے مشتبہ افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔ جنوبی وزیرستان میں منگل کوقانون نافذ کرنے والے اداروں کے وانا آپریشن کے نتیجے میں عسکریت پسندوں اور نیم فوجی دستوں کے درمیان تصادم کئی گھنٹوں جاری رہا۔ آئی ایس پی آر نے منگل کو بتیس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کردی تھی جن میں میں آٹھ نیم فوجی اہلکار اور القاعدہ کے تقریباً چوبیس ارکان بتائے گئے تھے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ کے مطابق اس کارروائی میں پاک فوج کا کوئی جوان ہلاک نہیں ہوا۔ ان کے مطابق ’چوبیس کے قریب شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں تاہم ان کی صحیح تعداد کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائی وانا سے دس سے بارہ کلومیٹر دور ایک علاقے میں کی گئی ہے اور اس سے عام آبادی پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ پشاور میں قبائلی علاقوں کا انتظام چلانے والے فاٹا سیکریٹریٹ سے منگل کی رات جاری کئے گئے ایک مختصر سے بیان میں کہا گیا کہ ایک اطلاع پر فرنٹیر کور کے جوانوں نے کاروائی کی جس کے دوران تصادم میں چوبیس ’غیر ملکی عناصر‘ یا االقاعدہ کے مشتبہ افراد ہلاک جبکہ ملیشا کے آٹھ اراکین مارے گئے ہیں اور پندرہ مذید زخمی ہیں۔ بیان کے مطابق صرف دو غیر ملکیوں کی لاشیں برآمد کی جا سکی ہیں۔
ماضی کے برعکس اس مرتبہ پاکستانی فوج کی جگہ نیم فوجی دستوں یعنی فرنٹیر کور اور مقامی خاصہ دار فورس نے اس آپریشن میں حصہ لیا۔ وانا سے موصول اطلاعات کے مطابق فرنٹیر کور کے سینکڑوں جوان منگل کی صبح اعظم ورسک کے علاقے میں پہنچے اور وہاں چند مکانات کا گھیراؤ کیا۔ یہ علاقہ حکومت کو القاعدہ کی مدد کے الزام میں مطلوب ان پانچ مشتبہ قبائلیوں کا ہے جنہیں اب تک حکومت گرفتار نہیں کرسکی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق مقامی قبائلیوں کی جانب سے شدید مزاحمت ہوئی۔ فریقین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا اور ہلکا اور بھاری اسلحہ استعمال ہوا۔ ایف سی کی کئی گاڑیاں بھی نشانہ بنیں اور تباہ کر دی گئیں۔ اس کارروائی میں کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ہے۔ علاقے میں اب سخت کشیدگی اور تشویش کی فضا پائی جاتی ہے۔ اعظم ورسک سے ایک قبائلی غازی مرجان نے فون پر بتایا کہ وہ اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ وہ یہ علاقہ چھوڑ دیں کیونکہ بدھ کو یہاں فوج بمباری کرنے والی ہے۔ یہ کارروائی صدر پرویز مشرف کے پشاور میں سوموار کے اس بیان کے بعد شروع ہوئی ہے جس میں انہوں نے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے پانچ سے چھ سو غیرملکی افراد کے چھپے ہونے کی بات کی تھی۔ تایم اس حالیہ آپریشن سے وانا کے ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||