وانا: پانچ عورتیں، چھ بچے ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں ہسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں جاری فوجی کاروائی میں ایک گاڑی ہیلی کاپٹر کے حملے کا نشانہ بنی ہے جس سے بارہ افراد جن میں پانچ عورتیں اور چھ بچے بھی شامل ہیں ہلاک ہوئے ہیں۔ پاکستان فوج کے بریگیڈیر محمود شاہ نے اس بات کی تردید کی ہے اور کہا کہ جس وقت کا یہ واقعہ بتایا جا رہا ہے اس وقت فوجی گنشپ ہیلی کاپٹر کارروائی نہیں کر رہے تھے اور نہ ہی یہ حملہ اس علاقے میں ہوا ہے جہاں ہیلی کاپٹر استعمال ہوئے ہیں۔ برگیڈیر محمود کا کہنا تھا کہ ممکن ہے یہ حملہ مشتبہ شدت پسندوں کی طرف سے کیا گیا ہو۔ اس سے قبل وانا ایجنسی ہیڈکواٹر ہسپتال کے ڈاکٹر محمد یونس نے بتایا تھا کہ انہوں نے چار زخمیوں کو طبی امداد کے لئے داخل بھی کیا ہے۔ ان زخمیوں میں دو مرد اور دو بچے شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والے بچوں کی عمر دو سے پانچ سال تک بتائی جاتی ہے۔ زخمیوں میں ایک معمر ستر سالہ شخص بھی شامل ہے۔ وانا سے موصول اطلاعات کے مطابق یہ افراد فوجی کاروائی والے علاقے غواخا سے دو گاڑیوں میں کسی محفوظ مقام کی جانب اپنے ساز و سامان کے ساتھ روانہ ہوئے کے ہیلی کاپٹر کی زد میں آگئے۔ ایک زخمی رحمان اللہ کا کہنا تھا کہ صبح گیارہ بارہ بجے پیش آنے والے اس ہیلی کاپٹر کے حملے میں اس کے بھائی اور چچا زاد ہلاک ہوئے ہیں۔ پشاور میں حکام نے ہفتے کو ایک بریفنگ میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ محاصرہ والے علاقے سے فرار ہونے کی کوشش میں دو گاڑیاں نشانہ بنی ہیں۔ تاہم یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ایک ہی واقعہ ہے یا دو مختلف واقعات۔ اس واقعے سے علاقے میں قبائل کے غم و غصہ میں اضافے کا احتمال ہے۔ اس کے علاوہ محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کے رجحان میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ ابھی چند روز قبل ہی فوجیوں کی مبینہ فائرنگ سے گیارہ افراد وانا کے قریب ژڑی نور علاقے میں ہلاک ہوئے تھے۔ ابھی اس واقعے کی تحقیقات بھی مکمل نہیں ہوئیں کہ یہ تازہ واقعہ پیش آیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||