وانا، آپریشن کے بعد کیا ہو رہا ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا کے مغرب میں گھر گھر تلاشی کا عمل جاری ہے۔ کبھی کبھی توپوں کی گھن گرج بھی سنائی دیتی ہے جبکہ فضا میں گشت میں مصروف فوجی ہیلی کاپٹر اس علاقے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ قبائلی علاقے کا آغاز جنڈولہ کے مقام سے ہوتا ہے۔ یہاں سے وانا کی جانب جانے والی سڑک پر تھوڑے سے سفر کے بعد ایک ایسا مقام آتا ہے جو اس وقت بھی ایسے جنگی میدان کا نظارہ پیش کر رہا تھا، جہاں کافی شدید جنگ لڑی گئی ہو۔ یہ مقام ہے محسود قبائل کا علاقہ سروکئی۔ یہاں دو روز قبل نامعلوم افراد نے بظاہر منصوبہ بندی سے گھات لگا کر ایک فوجی قافلے پر راکٹوں سے حملہ کیا۔ اس مقام پر ایک مقامی پولیس یعنی خاصہ داروں کی ایک چوکی بھی موجود ہے۔ لیکن مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ حملہ آوروں نے حملے سے قبل وہاں موجود خاصہ داروں کو رسی سے باندھ کر بے بس کر دیا تھا اور پھر اسی چوکی سے حملہ کیا۔ اس مقام کے دورے سے معلوم پڑتا ہے کہ حملہ اتنا شدید اور غیرمتوقع تھا فوجیوں کو دفاع کا موقعہ ہی نہ مل سکا۔ اس حملے میں نقصانات کے بارے میں تو کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا لیکن مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میں گیارہ ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ اس میں ایک پشاور کے میجر عدنان شاہ بھی شامل تھے جنہیں منگل کے روز سپرد خاک کیا گیا۔ حملے میں سات تباہ شدہ گاڑیاں دو روز بعد بھی وہیں کھڑی تھیں۔ جلے ہوئے ٹرک جن میں شاید ایندھن لیجایا جا رہا تھا اور گولیوں سے چھلنی جیپیں حملے کی شدت کا منہ بولتا ثبوت تھیں۔ گاڑیاں دیکھنے اترے تو ہم پر بھی فوجیوں نے راکٹ تان لیے لیکن اپنی شناخت کرانے پر بیچ بچاؤ ہوگیا۔
اس علاقے میں محسود قبائل آباد ہیں لہذا اس واقعے کی ذمہ داری ان پر پڑتی ہے۔ اس قبیلے کے سربراہ مہردل خان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ انہوں نے حملہ آوروں کی گرفتاری کے لئے مسلح لشکر تشکیل دیا ہے۔ ’ہمارا علاقہ اس واقعے سے پہلے تک کافی پرامن تھا۔ یہ باہر کے لوگ ہوسکتے ہیں۔ ہم نے تین افراد حکومت کی تسلی کی خاطر اس کے حوالے کر دیے ہیں لیکن ہم حملہ آوروں کی شناخت ہونے پر ان کو نہیں چھوڑیں گے۔’ قبائلی علاقوں میں حفاظتی امور کے انچارج برگیڈیر ریٹائرڈ محمود شاہ نے بدھ کے روز پشاور میں صحافیوں کو بتایا کہ حکومت نے ذلی خیل قبیلے کے لئے جعمرات کی صبع دس بجے تک یرغمال بنائے گئے سپاہیوں اور اہلکاروں کی رہائی کے لئے وقت دیا ہے۔ البتہ انہوں نے وضاحت انہوں نے مزید بتایا کہ تلاشی کے دوران انہیں آڈیو کیسٹس، کتب اور فون نمبرز ملے ہیں جن سے انہیں تحقیقات میں مدد مل سکتی ہے۔ ان کے مطابق مشتبہ افراد کے مکانات مسمار کئے جانے کا عمل بھی جاری ہے۔ ادھر وانا میں قبائلی ملک اور عمائدین بدھ کے روز بھی جرگوں میں مصروف رہے۔ حکومت سے ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں یرغمالیوں کی رہائی کے لئے مزید وقت دیا جائے کیونکہ انہیں یرغمال رکھنے والوں سے ان کا اول تو رابطہ نہیں ہو رہا اور دوسرا یہ کہ اگر رابطہ ہو گا تو اس میں وقت لگ سکتا ہے۔ فی الحال فوج بھی کسی تازہ کارروائی کے موڈ میں نظر نہیں آتی۔ اس کی وجہ اس کا رسد کے راستے کا گذشتہ روز کے قافلے پر حملے کے بعد پرخطر ہوجانا ہے۔ البتہ اس کی جانب سے اب بھی کسی قسم کی فائر بندی کے تاثر کی تصدیق کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب پشاور سے مصالحت کے لئے بھیجے گئے جرگہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کے مطالبے پر مذاکرات کے عمل کو آسان بنانے کی خاطر جنگ بندی کا وعدہ کیا ہے۔ لیکن حملے کی صورت میں فوج بھی جواب کا حق رکھے گی۔ جنوبی وزیرستان میں فوجی کاروائی کو شروع ہوئے تقریبا ایک ہفتہ ہوچکا ہے اور اب قبائلیوں کے ساتھ ساتھ حکام کی بھی علاقے سے القاعدہ کے کسی بڑے رہنما کی گرفتاری کی امید مانند پڑتی نظر آتی ہے۔ اس کا ایک ثبوت اب حکام کے مطابق مکانات کی تلاشی کے دوران مزاحمت کا خاتمہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||