وانا آپریشن سے متعلق تشنہ سوالات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کہتے ہیں جنگ میں پہلا شکار سچ ہوتا ہے۔ فریقین ایک دوسرے پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے کی خاطر اکثر سچ کو چھپانے کے لئے کبھی خاموشی اور کبھی جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے خیال میں پاکستان کے قبائلی علاقہ جنوبی وزیرستان میں بھی دنیا کو یکطرفہ معلومات مہیا کی جا رہی ہیں۔ حکومت یا فوج جو کہتی ہے اسے من و عن شائع یا نشر کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب جنہیں طالبان یا القاعدہ کے جنگجوں کا نام دیا جا رہا ہے ان کا کوئی بیان یا موقف دستیاب نہیں۔ وہ کون لوگ ہیں اور کیا چاہتے ہیں؟ نیم خود مختار قبائلی علاقہ جنوبی وزیرستان گزشتہ ایک ہفتے سے قومی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں وہاں جاری فوجی کاروائیوں کی وجہ سے توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس توجہ اور تجسس میں بے پناہ اضافہ صدر پرویز مشرف کے اس بیان کے بعد پیدا ہوا جس میں انہوں نے اس علاقے میں القاعدہ کے کسی بڑے رہنما کی موجودگی کے شک کا اظہار کیا تھا۔ یہ شک اب بھی موجود ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس پر یقین میں کمی آتی جا رہی ہے۔
وانا کے ایک نوجوان علاوالدین ذلی خیل سے پوچھا کہ انہوں نے اس فوجی کاروائی کی کوریج کو کیسا پایا تو اس کا کہنا تھا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ کوریج سرکاری دباؤ کے تحت ہو رہی ہے۔ ’مقامی صحافیوں کو اصل مقام جنگ سے رپورٹنگ کی اجازت نہیں۔ وہ ایف سی آر کے قانون سے خوفزدہ ہیں۔ کوئی ایسی بات نہیں کر سکتے جو حکومت کو گراں گزر سکتی ہے۔’ علاوالدین کا کہنا تھا کہ انہیں گرفتار افراد کے بارے میں بھی نہیں معلوم کے وہ کون ہیں۔ ’اخبارات میں جو چند تصاویر شائع ہوئیں ان لوگوں کو ہم جانتے ہیں وہ سب مقامی لوگ ہیں کوئی القاعدہ نہیں۔’
شوکت خٹک کا کہنا تھا کہ اسے فیلڈ سے رپورٹنگ میں سخت مشکلات درپیش رہیں۔ ’ہم اس علاقے میں نہیں جا سکتے تھے، وہاں کیا ہو رہا ہے نہیں بتا سکتے تھے۔ مقامی حکام نے تو کاروائی کے پہلے روز سے بات کرنا بند کر دیا تھا۔ وانا سے اسلام آباد تک فوجی حکام سے کسی خبر کے لئے رابطے کئے لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔‘ حکومت کی جانب سے بہت تھوڑی معلومات دینے اور کافی زیادہ چھپانے کی شکایت صرف عام لوگ اور صحافی ہی نہیں کر رہے بلکہ کئی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی حکومت کی پالیسی پر کڑی تنقید کی۔
اس تنظیم کے پشاور میں نمائندے اور صحافی اقبال خٹک کا کہنا تھا کے عراق کی جنگ کے برعکس یہاں میڈیا کو سہولت دینے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا۔ ’صحافی خبر کی تصدیق کے لئے مارے مارے پھرتے رہے۔’ معلومات کی عدم دستیابی کی وجہ سے عوام کو کیا مشکلات درپیش رہیں اس کا نمونہ فوجی کاروائی والے علاقے ژاغونڈئی کے ایک نوجوان شاد علی ہیں۔ ان کا بھائی کارروائی کے دوران لاپتہ ہوچکا ہے اور وہ پریشان ہیں۔ ’میرا اٹھارہ سالہ بھائی ایک مدرسے میں زیرتعلیم تھا۔ اس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم کہ وہ اب کہاں ہے لیکن ہمیں شک ہے وہ فوج کی گرفت میں ہے۔ فوج والے کچھ نہیں بتاتے کہ اسے کہاں رکھا جا رہا ہے۔‘ وانا کاروائی کی یک طرفہ کوریج سے مختلف قسم کی افواہیں بھی گردش کرنے لگی ہیں۔ مقامی قبائلی یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ کوئی پاکستانی تو شاید فوج کی مزاحمت نہیں کرسکتا تو یقین یہ غیرملکی ہونگے۔ اس بارے میں وانا کے ایک رہائشی صورت خان کا مفروضہ یہ تھا کہ ان تخریبی کاروائیوں کے پیچھے شمالی اتحاد یا بھارت کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ ’اس علاقے میں فوج کے آنے سے یہ لوگ بھی آگئے ہیں۔‘ البتہ اس سے پوچھا کہ شمالی اتحاد کیسے آئے تو اس کا کہنا تھا کہ پہاڑوں میں خفیہ راستوں سے لیکن اس نے یہ بات ماننے سے انکار کیا کہ انہیں راستوں سے القاعدہ کے لوگ بھی آئے ہوں گے۔ علاقے میں ہزاروں کی تعداد میں افغان پناہ گزینوں کی موجودگی صورتحال کو مزید گمبھیر بناتی ہے۔ ملک انور خان کا کہنا ہے کہ لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی موجودگی میں کچھ معلوم نہیں کون کون ہے۔ ’ان میں القاعدہ بھی ہوسکتے ہیں، شمالی اتحاد اور ہندوستانی بھی اور اسرائیلی بھی۔‘ موجودہ صورتحال میں مقامی صحافیوں کی طرح قبائلی سردار بھی مشکل میں نظر آتے ہیں۔ وہ آج کل صحافیوں سے کتراتے نظر آتے ہیں۔ ان کو خوف ہے کہ ان کا کچھ کہا حکومت کو کہیں ناگوار نہ گزرے جو ان کے لئے مشکلات کھڑی کر دے گا۔ کئی قبائلی سرداروں سے بات کی کوشش کی لیکن چند نے ہی اس کی حامی بھری۔ اس تمام کاروائی میں دوسرے فریق یعنی فوج کی مزاحمت کرنے والوں کا موقف آخری وقت تک معلوم نہیں ہوسکا ہے۔ اس بارے میں صحافی شوکت خٹک کا کہنا تھا کہ جب اس علاقے میں ہی کسی کو نہ جانے دیا جائے جہاں یہ لوگ محاصرے میں ہیں تو ان سے بات کیسے ہوسکتی ہے۔جبکہ حکومت نے تو جب چاہا بیان جاری کیا اور وہ شائع بھی ہوا اور نشر بھی۔‘ جیسے کے شوکت خٹک نے کہا حکومت کو یہ سہولت رہی کہ جب اس کا جی چاہا اپنے مطلب کی بات عام کردی اور جب نہ چاہا تو خاموشی اختیار کرلی۔ صحافیوں کے پاس اصل حقائق حاصل کرنا ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے اور وانا میں صورتحال اس سے کسی طرح بھی مختلف نہیں رہی۔ حکومت کے پاس میڈیا کے علاوہ اپنی بات لوگوں تک پہنچانے کے دیگر ذرائع بھی ہیں۔ عوامی سوچ تبدیل کرنے کے لئے مساجد کا استعمال بھی اس کا حصہ ہے۔ وانا کے اسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ رحمت اللہ وزیر کا کہنا ہے کہ انہوں نے لوگوں کے ذہن تیار کرنے پر پوری توجہ دی ہے۔ ’ہم نے اس کے لئے مساجد کا استعمال کیا اور لوگوں کو بتایا کہ جہاد کا اصل مقصد کیا ہے۔ اب مجھے یقین ہے کہ اٹھانوے فیصد لوگ حکومت کی پالیسی کو درست مانتے ہیں۔‘ وانا کاروائی کی میڈیا کوریج میں کلیدی کردار قبائلی علاقوں میں حفاظتی امور کے سیکرٹری محمود شاہ سے پوچھا کہ کیا یہ تاثر درست ہے کہ حکومت نے اس کارروائی کے دوران بتایا کم اور چھپایا زیادہ تو انہوں نے اسے غلط قرار دیا۔ ’میرے پاس تو جو معلومات بھی ہوتی تھیں وہ میں ذرائع ابلاغ کے سامنے رکھ دیتا تھا۔ میں اس کارروائی کی کوریج سے ذاتی طور پر مطمئن ہوں۔ میرے خیال میں جلد یا بدیر جو معلومات بھی ہوتی ہیں وہ سامنے آتی ہیں لہذا چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں۔‘ پاکستان فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وانا کارروائی کے دوران اسے پہنچنے والے نقصان کی تفصیل اس آپریشن کے خاتمے پر دی جائے گی۔ اس وجہ سے فوجی قافلے پر حملے جیسے مختلف واقعات میں ہلاکتوں کی صحیع تعداد آج تک معلوم نہیں ہوسکی جبکہ اغوا ہونے والوں کی خبر چار روز بعد اس وقت سامنے آئی جب ان کی لاشیں ملیں۔ اس کے علاوہ القاعدہ کے نمبر دو ڈاکٹر ایمن الظواہری واقعی میں وہاں تھے یا نہیں اور اگر تھے تو کیا فرار ہونے میں کامیاب رہے؟ گرفتار ہونے والے ایک سو ساٹھ کون لوگ ہیں اور مرنے والے پچاس کون تھے؟ کیا سب کے سب القاعدہ کے ارکان ہیں یا عام شہری بھی ان میں شامل ہیں۔ مزاحمت والے کون ہیں اور ان کا مقصد کیا ہے؟ انہیں کیا خوف ہیں جو وہ اپنے آپ کو حکام کے حوالے کرنے کو تیار نہیں؟ تازہ کارروائی کے بارے میں اس جیسے بے شمار سوالات ہیں لیکن جواب ندارد۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||