BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 March, 2004, 13:09 GMT 18:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وانا کارروائی بند کی جائے‘

قومی اسمبلی
پاکستان کی قومی اسمبلی میں جمعرات کےروز وانا میں جاری کارروائی کے خلاف حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نےبھرپور احتجاج کرتے ہوئے"شیم شیم" کے نعرے لگائےاور کارروائی روکنے کا مطالبہ کیا۔

تمام جماعتوں نے فوجی کارروائی کے متعلق فیصلے کا اختیار پارلیمنٹ کو دینے پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی جماعتوں کی گول میز اور ایک کل جماعتی کانفرنس بلانے کا بھی مطالبہ کیا۔

حزب اِختلاف کی تینوں بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن) اور متحدہ مجلس عمل نے باری باری واک آؤٹ بھی کیا جبکہ فاٹا سے تعلق رکھنے والے سرکار کے حامی ارکان منیر اورکزئی اور غازی گلاب جمال نے بولنے کی اجازت نہ ملنے پر علامتی واک آؤٹ کیا۔

وزیر داخلہ فیصل صالح حیات نے حزب اختلاف کی تنقید مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ وانا کے معاملے میں سنجیدہ نہیں لگتے محض حکومت پر تنقید کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وانا کی فکر ہوتی تو مولانا فضل الرحمان لندن کی سرد ہواؤں کے مزے نہ لوٹتے۔

انہوں نے ایوان کو بتایا کہ اب تک وانا میں بیس دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں اور تیس سے پینتیس مزید نعشیں ملنے کی توقع ہے۔ تاہم انہوں نے ہلاک ہونے والے سرکاری اہلکاروں کی تعداد نہیں بتائی۔

انہوں نے مزید کہا کہ نہ تو کارروائی امریکہ کے دباؤ پر ہو رہی ہے اور نہ ہی امریکی اس میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اندرونی سلامتی کی خاطر کارروائی کر رہی ہے۔

قوائد معطل کرکے دو گھنٹے بحث کرنے کے متفقہ فیصلے کے بعد مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد، محمود خان اچکزئی، شاہ محمود قریشی، طاہرالقادری، چودھری نثار علی خان، مولانا غلام محمد صادق، مولانا نیک زمان، رؤوف مینگل، عبدالغفور حیدری اور دیگر ارکان نے کہا کہ جرنیل اپنے سوا کسی کو محب وطن نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ علمی ٰ نے فتوے جاری کئے ہیں کہ امریکہ کی خاطر مرنے والے فوجی شھید نہیں ہو سکتے۔

حزب اختلاف کے ارکان نے کہا کہ کارروائی سے پہلے نہ تو کابینہ کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی پارلیمان کو۔ انہوں نے کہا کہ وانا کارروائی کا فیصلہ کور کمانڈر کانفرنس میں کیا گیا۔ فاٹا کے ارکان کا کہنا تھا کہ پچیس برس سے علاقے میں مقیم "مجاہدین" کے قبائلیوں نے اپنی بچیوں سے بیاہ کرائے ہیں اور اب وہ قبائل کا حصہ بن گئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد