BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 October, 2003, 14:32 GMT 18:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قبائل کے خلاف کارروائی جاری

قبائلی علاقے کا ایک منظر
قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے خلاف کارروائی کچھ دن پہلے شروع کی گئی تھی

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ان قبائل کے خلاف کارروائی جمعہ کو تیسرے روز بھی جاری رہی جن پر القاعدہ کے ارکان کو پناہ دینے کا الزام ہے۔ وانا میں انتظامیہ نے اب تک چالیس سے زائد افراد کو حراست میں لینے کی تصدیق کی ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی اب ایک تیسرے قبیلے یارگل خیل تک بڑھا دی گئی ہے۔

افغانستان کے ساتھ سرحد پر واقع نیم خودمختار قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کی انتظامیہ بظاہر القاعدہ کی مبینہ مدد کرنے والے قبائل پر دباؤ میں کمی کو تیار نہیں۔

جمعہ کو تیسرے روز بھی زلی خیل اور کری خیل کے علاوہ یارگل خیل قبیلے کے افراد کو بھی حراست میں لیا جاتا رہا جس سے اب تک حراست میں لئے گئے افراد کی تعداد چالیس سے زائد ہوگئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائیاں صرف قبائلی علاقوں تک ہی محدود نہیں بلکہ ٹانک اور ڈیرہ اسمائیل خان میں بھی ان قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد کو گرفتار کیا جا رہا ہے اور ان کے کاروبار بند اور گاڑیاں ضبط کی جا رہی ہیں۔

وانا کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ سید انور علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ قبائل پر القاعدہ کی سرپرستی کا الزام ہے اور مطلوبہ تین افراد کے حکام کی تحویل میں آنے تک یہ کارروائی جاری رہے گی۔ اس سوال کے جواب میں کہ حراستوں کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا، انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اپنے مقاصد کے حصول تک ایسا کرتی رہے گی۔

جنوبی وزیرستان میں گزشتہ ہفتے پاکستانی فوج نے ایک کاروائی کرتے ہوئے بقول اس کے القاعدہ کے آٹھ مشتبہ افراد کو ہلاک کردیا تھا جبکہ اٹھارہ کو حراست میں لے لیا تھا۔ یہ کارروائی جنوبی وزیرستان کی افغان سرحد کے قریب علاقے انگور اڈہ میں کی گئی تھی۔ یہاں آباد وزیر قوم کی ذیلی شاخ زلی خیل کو حکام نے اُن تین افراد کو اس کے حوالے کرنے کے لئے تین دن کی مہلت دی تھی جن کے مکانات میں یہ مشتبہ افراد موجود تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس مئی میں ان قبائل کے ساتھ ایک تحریری معاہدے کے تحت وزیر قبائل کو کسی القاعدہ یا غیرملکی کو پناہ نہ دینے کا پابند بنایا گیا تھا۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ ان قبائل نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد