پاکستانی کارروائی کا خیرمقدم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے القاعدہ اور طالبان جنگجوؤں کے خلاف کی جانے والے نئی پاکستانی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ کولن پاول جنوبی ایشا کے دورے کے دوران پہنچے ہیں جہاں افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے بعد انہوں نے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔ ملاقات کے دوران اس سال کے آخر میں افغانستان میں ہونے والے انتخابات پر بھی غور کیا گیا۔ کولن پاول اور حامد کرزئی نے گفتگو کے دوران افغانستان میں سکیورٹی اور پاک افغان سرحد کے دونوں جانب جاری فوجی کارروائیوں پر بات چیت کی۔ کولن پاول نے کہا ہے کہ صدر جارج بش اور امریکی عوام افغانستان کی تعمیر اور ملک کو ایک آئینی جمہوریہ بنانے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے افغانستان میں انتخابات کی تیاریوں کو سراہا اور اس بات پر خصوصی تسلی کا اظہار کیاکہ خواتین خود کو ووٹنگ کے لئے رجسٹر کروا رہی ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ کولن پاول کابل میں حامد کرزئی سے ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف صدر بش کی جنگ پر غور کیا جائے گا۔ کولن پاول ایسے وقت کابل پہنچے ہیں جب امریکی قیادت والی فوج پاکستانی سرحد کے قریب واقع افغانستان پہاڑی علاقے میں القاعدہ اور طالبان جنگجوؤں کے خلاف سرگرم ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے نیم فوجی دستے القاعدہ اور طالبان جنگجوؤں کے خلاف وزیرستان میں ایک آپریشن کر رہے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنی سرحدی حدود میں اسامہ بن لادن اور دیگر شدت پسند رہنماؤں کو پکڑنے کی کوششوں میں اضافہ کرنا چاہئے۔ کابل میں افغان صدر حامد کرزئی اور دیگر امریکی فوجی حکام سے مذاکرات کے بعد کولن پاول پاکستان آئیں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ لوگ جو پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو محض ایک عارضی قربت قرار دیتے ہیں، وہ پاکستان اور امریکہ کے مضبوط ارادوں سے ناآشنا ہیں۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ منگل کو جنوبی وزیرستان میں ہونے والی جھڑپوں میں تیس سے زائد افراد ہلاک ہو ئے ہیں۔ اس سے قبل صدر پاکستان جنرل پرویزمشرف نے یقین دہانی کرائی تھی کہ نیم خود مختار سرحدی علاقوں کو مشتبہ شدت پسندوں سے نجات دلا دی جائے گی۔ کولن پاول اپنے کے دورے کے پہلے مرحلے میں پیر کی رات بھارتی دارالحکومت دہلی پہنچے تھے جہاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ وہ اسلام آباد میں صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کے دوران پاکستانی سائنسدان عبدالقدیر خان کی جانب سے جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی پر بھی تفصیلی گفتگو کریں گے۔ کولن پاول پاکستان پہنچ کر صدر جنرل پرویز مشرف کے علاوہ وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی اور وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری سے بھی ملاقات کریں گے۔ دہلی میں جنوبی ایشا کی سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کولن پاول ننے کہا تھا کہ حالیہ چند ماہ کے دوران حالات میں ڈرامائی تبدیلی آئی ہے اور ’ہم ایسے وقت یہاں پہنچے ہیں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ سیریز کھیلی جا رہی ہے۔ ڈیڑھ برس قبل کے مقابلے میں یہ خاصی بڑی تبدیلی ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||