’جوہری کاروبارجڑ سےاکھاڑ پھینکیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان جوہری معلومات کے پھیلاؤ کے خفیہ کاروبار کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ جوہری پھیلاؤ کے سلسلے میں جوہری توانائی کے عالمی ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) سے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا اور جوہری پھیلاؤ کے معاملے میں حاصل ہونے معلومات میں اسے بھی شریک کیا جائے گا۔ ادھر لاہور کی ایک عدالت میں ملک کے اٹارنی جنرل نے خان ریسرچ لیبارٹریز کے چھ حکام کو حبس بے جا میں رکھے جانے سے متلق ایک مقدمے کی سماعت کے دوران بتایا کہ حکومت بند کمرے کی عدالتی سماعت کے دوران اس سلسلے میں تمام تر تفصیلات بتانے کو تیار ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے کہا کہ پاکستان اس ضمن میں کافی اقدامات تو اٹھا ہی چکا ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ ملک کے جوہری اسلحہ و اثاثہ جات کے خالق اور خان ریسرچ لیبارٹریز (کے آر ایل) کے سابق سربراہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جو جوہری پھیلاؤ میں ملوث ہونے کا باقاعدہ اعتراف کرچکے ہیں، ممکن ہے کہ انہیں تفتیش کاروں کے مزید سوالات کے جواب بھی دینے پڑیں۔ حکومت پاکستان نے اس سلسلے میں بین الاقوامی برادری کو بھی اعتماد میں لینے کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کا کہنا ہے کہ انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف سے کہا ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ خفیہ جوہری پھیلاؤ کے لیے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے روابط کا پھیلا ہوا کوئی جال باقی نہیں رہے۔ کولن پاول نے کہا کہ انہیں یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ حکومت پاکستان اس سلسلے میں تعاون کرے گی اور اسلام آباد اس سلسلے میں حاصل ہونے والی تمام معلومات میں بین الاقوامی برادری کو شریک کرے گا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ جوہری پھیلاؤ کے سلسلے میں جوہری توانائی کے عالمی ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) سے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا اور جوہری پھیلاؤ کے معاملے میں حاصل ہونے معلومات میں اسے بھی شریک کیا جائے گا۔ پاکستان اس بات پر مسلسل زور دیتا رہا ہے کہ وہ جوہری مواد سے متعلق کالے کاروبار کو اکھاڑ پھینکنا چاہتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر جنرل مشرف چونکہ امریکہ کے قریبی حلیف گردانے جاتے ہیں اس لیے اب تک اس سلسلے میں حاصل ہونے والے خفیہ رازوں کو خفیہ ہی رکھا گیا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ امریکہ نے جوہری ہھتیاروں اور معلومات و مواد کے معاملے میں تفتیش کرنے اور اسے روکنے کے لیے اپنے عزم کو کبھی چپھانے کی کبھی کوئی کوشش نہیں کی۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ ملک کے جوہری اسلحہ و اثاثہ جات کے خالق اور خان ریسرچ لیبارٹریز (کے آر ایل) کے سابق سربراہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جو جوہری پھیلاؤ میں ملوث ہونے کا باقاعدہ اعتراف کرچکے ہیں، کو غیر مشروط معافی نہیں دی گئی ہے۔ حکومتی کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ ڈاکٹر قدیر خان کو تفتیش کاروں کے مزید سوالات کے جواب بھی دینے پڑیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ لیبیا، ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک کو جوہری معلومات مواد و اثاثہ جات کی منتقلی کے سلسلے میں ڈاکٹر قدیر خان سے تفتیش ابھی جاری ہے مگر اس کے ساتھ ہی پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے اپنے تمام جوہری اثاثہ جات کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے کہ یہ شدت پسندوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر قدیر خان کو معافی مشروط طور پر دی گئی ہے اور یہ معافی ان کے محض اب تک کے اعترافات کی بنیاد پر دی گئی ہے۔ تاہم دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے اس سلسلے میں کچھ بھی کہنے سے انکار کردیا کہ اگر مزید انکشافات ہوں تو آیا ملک کے جوہری سائنسدانوں کے خلاف درج مقدمہ ازسرنو شروع ہوسکتا ہے یا نہیں۔ حالیہ ہفتوں میں صدر جنرل مشرف نے ڈاکٹر قدیر خان کو ’قومی ہیرو‘ قرار دیتے ہوئے انہیں معافی دینے کا اس وقت اعلان کیا تھا جب وہ قوم سے اپنے کیے پر معافی مانگ چکے تھے۔ ادھر لاہور کی ایک عدالت میں ملک کے اٹارنی جنرل نے خان ریسرچ لیبارٹریز کے چھ حکام کو حبس بے جا میں رکھے جانے سے متلق ایک مقدمے کی سماعت کے دوران بتایا کہ حکومت بند کمرے کی عدالتی سماعت کے دوران اس سلسلے میں تمام تر تفصیلات بتانے کو تیار ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||