کولن پاول بھارت پہنچ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کولن پاول جنوبی ایشیا کے دورے پر بھارت پہنچ گئے ہیں جہاں وہ منگل کو اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے۔ بھارت کے بعد وہ پاکستان اور افغانستان کا بھی مختصر دورہ کریں گے۔ کولن پاول یہ دورہ ایک ایسے وقت پر کررہے ہیں جب دو جوہری طاقتوں بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف الفاظ کی ایک جنگ جاری ہے۔ بھارت نے پاکستانی صدر پرویز مشرف کے ایک حالیہ بیان کو رد کردیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر دونوں ممالک کے مابین اختلافات کی بنیادی وجہ ہے۔ جنوری میں مشرف اور بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے درمیان مذاکرات سے دونوں ممالک کے کشیدہ تعلقات میں نرمی پیدا ہوئی تھی۔ بھارت اور پاکستان ،مذاکرات کے ایسے دور کے لئے راضی ہوگئے تھے جس میں کشمیر کو واحد اہم مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک اہم مسئلہ سمجھ کر غور کیا جائے گا۔ تاہم ہفتہ کے روز اپنی تقریر میں صدر مشرف نے کہا ہے کہ بھارت نے اپنے موقف کو تبدیل کرلیا ہے کیونکہ پہلے بھارت کا کہنا تھا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے۔ بھارت کی وزارت خارجہ نے جواباً کہا ہے کہ جنوری کے مذاکرات کے بعد جو مشترکہ بیان جاری کیا گیا تھا اس میں کشمیر کے مسئلہ کو ایک اہم مسئلہ سمجھ کر اس پر غور کرنے پر رضامندی ظاہر کی گئی تھی تاکہ دوطرفہ کشیدگی ختم کی جاسکے۔ بھارت نے مزید کہا ’اس مشترکہ بیان کی یکطرفہ وضاحت کو قبول نہیں کیا جائے گا اور یہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کے لئے بھی نقصاندہ ہے‘۔ بھارت نے اپنے زیر انتظام کشمیر میں سرگرم علیحدگی پسندوں کے بارے میں پاکستان کی رائے پر بھی اعتراض کیا ہے جس نے ان کی کارروائیوں کو آزادی کی جدوجہد قرار دیا جبکہ پرویز مشرف پر ہونے والے حملوں کو دہشتگردی قرار دیا۔ توقع ہے کہ اپنے دورے میں کولن پاول بھارت امریکہ تعلقات مضبوط کرنے پر بھی زور دیں گے۔ دونوں ممالک مشترکہ امن کے پروگرام اور اعلٰی تکنیکی تجارت پر غور کررہے ہیں۔ پاکستان میں کولن پاول القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی تلاش سے متعلق بات چیت کریں گے۔ پاکستان کے دورے کے بعد وہ کابل بھی جائیں گے جہاں وہ افغان صدر حامد کرزئی کے لئے امریکی حمایت کا اعادہ کریں گے۔ افغانستان میں امریکی فوجی القاعدہ کی تلاش کے لئے ایک تازہ کارروائی شروع کرنے والے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||