BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 October, 2003, 01:24 GMT 06:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امدادی اداروں سے امریکہ کی اپیل
ریڈ کراس کا دفتر
ریڈ کراس کی عمارت سے اٹھتا دھواں

امریکی وزیرِ خارجہ کولن پاول نے ریڈ کراس اور دیگر امدادی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ عراق میں اپنا کام جاری رکھیں۔ کولن پاول کا کہنا ہے کہ ان تنظیموں کے واپس جانے کا مطلب ’دشمنوں کی فتح‘ ہے۔

پاول نے کہا کہ انہیں تشویش ہے کہ کہیں یہ ادارے عراق میں اپنے دفاتر بند ہی نہ کردیں ’کیونکہ عراق میں ابھی ان کی بہت ضرورت ہے‘۔

اس سے قبل امریکی صدر بش نے کہا تھا کہ ’بھیانک قاتلوں‘ کو عراق میں امریکہ کے مقاصد میں رخنہ اندازی نہیں کرنے دی جائے گی اور امریکہ اپنا کام جاری رکھے گا۔

یہ بیان انہوں نے عراقی دارالحکومت بغداد میں پیر کے روز کے بم دھماکوں کے بعد جاری کیا ہے جن میں کم سے کم چونتیس افراد ہلاک اور دو سو سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

صدر بش نے کہا کہ یہ دہشتگرد آزادی سے نفرت کرتے ہیں۔

شہر میں قائم ریڈ کراس کے دفاتر سمیت مختلف پولیس سٹیشنوں پر ایک گھنٹے کے اندر اندر یکے بعد دیگرے پانچ دھماکے ہوئے۔

ریڈ کراس کے حکام نے کہا تھا کہ وہ عراق میں اپنے دفاتر پر حملوں کے بعد، جن میں بارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں، اپنے عملے کی موجودگی پر نظرِ ثانی کررہے ہیں۔

صدر بش کا کہنا ہے کہ اس تشدد آمیز کارروائی سے ثابت ہوتا ہے کہ عراق کے استحکام اور سلامتی کے دشمن عناصر عراق میں ہونے والی مثبت پیش رفت سے خوش نہیں ہیں۔

اتوار کو امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے کہا تھا کہ امریکہ کو توقع نہیں تھی کہ اس کے فوجیوں کو عراق میں اس قدر شدید اور مسلسل حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

کولن پاول کے علاوہ عراق میں امریکی انتظامیہ کے سربراہ پال بریمر نے کہا ہے کہ انہیں اس طرح کی شواہد میسر آئے ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بقول ان کے ’دہشت گرد‘ خاصے منظم ہیں۔

واشنگٹن میں بی بی سی کےنامہ نگار کے مطابق دو سرکردہ امریکیوں کے ان بیانات کو عراق کے پر حملے کے بارے میں امریکیوں کی بدلتی ہوئی رائے کا نتیجہ بھی قرار دیا جا رہا ہے لیکن امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا ہے کہ عراق میں حفاظتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اور امریکی اس ذمہ داری کو نبھانے میں کسی پس و پیش سے کام نہیں لیں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد