کولن پاول: پاکستان اور بھارت کا دورہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کولن پاول مارچ کے وسط میں پاکستان، بھارت اور افغانستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔ امریکی دفترِ خارجہ کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار جان لین کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ پاکستان اور بھارت کے مابین دو سال قبل پیدا ہونے والی کشیدگی کے اس نکتۂ عروج کے بعد اب اس وقت ان ملکوں کا دورہ کرنے والے ہیں جب دونوں ملک کم و بیش جنگ کے دہانے تک پہنچنے کی بعد اب باہمی تنازعات کو بات چیت سے حل کرنے کے راستے پر گامزن ہیں۔ امریکہ نے دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت شروع کرانے میں ہمیشہ اپنے کردار کو غیر اہم بنا کر پیش کیا ہے تاہم کولن پاول کا یہ دورہ دونوں ملکوں کی اس جاری عمل کی حوصلہ افزائی بھی تصور کیا جائے گا۔ کولن پاول پاکستان کے دورے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کے اہم کردار پر بھی بات کریں گے اور ایٹمی پھیلاؤ میں پاکستانی سائنسداں ڈاکٹر قدیر خان کے کردار کے بارے میں براۂ راست معلومات بھی حاصل کریں گے۔
بش انتظامیہ نے ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا ہے کہ وہ پاکستان اور بھارت دونوں سے اپنے تعلقات کو الگ الگ اور یکساں اہمیت دیتی ہے اور ان تعلقات کی حدود محض دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پر بات چیت کے معجملات سے کہیں وسیع تر ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکہ کی اسی حکمت عملی نے اسے اس خطے میں اپنی پوزیشن کو مستحکم بنانے میں بڑی مدد دی ہے اور حقحیقت یہ ہے کہ کولن پاول کے وقت کا بڑا حصہ غیر معمولی طور پر اس خطے پر توجہ مرکوز رکھنے میں صرف ہوا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||