 |  کولن پاؤل |
امریکی وزیر خارجہ کولن پاؤل کا کہنا ہے کہ اگر انہیں معلوم ہوتا کہ صدام حسین کے پاس ممنوعہ ہتھیار نہیں ہیں، تو شاید وہ عراق پر حملے کی مخالفت کرتے۔ روزنامہ واشنگٹن پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پاؤل نے عراق پر امریکی چڑھائی کے خلاف بس اسی قدر شک کا اظہار کیا۔ عمومی طور پر انہوں نے جنگ مسلط کرنے کے امریکی فیصلے کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اُس وقت میسر خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیا گیا تھا اور یہ کہ انہیں یقین ہے جب تاریخ لکھی جائے گی تو عراق پر فوج کشی کو راست اقدام کے طور پر دیکھا جائے گا۔ مذکورہ خفیہ معلومات کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ ایک انکوائری کمیشن کے ذمے ہے جو نومبر میں صدارتی انتخابات کے بعد اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔ تاہم ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کا مطالبہ ہے کہ یہ رپورٹ انتخابات سے پہلے آنی چاہئے۔ |