جوازِ جنگ: امریکی برطانوی تحقیقات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر بش نے خفیہ اداروں کے ذریعے حاصل ہونے والی ان معلومات کی آزادانہ انکوائری کا حکم جاری کیا ہے جنہیں عراق پر حملے کام جواز بنایا گیا اور اس کے ساتھ ہی توقع ہے کہ برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا بھی منگل کو ایوانِ نمائندگان میں انکوائری کا اعلان کرنے والے ہیں۔ گزشتہ روز سینیئر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس انکوائری میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ یہ مواد عراق پر حملے کا کس حد تک منصفانہ جواز فراہم کرتا تھا۔ جب کے برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا اعلان کرنے والے ہیں کہ عراق کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے ہونے کے بارے میں معلومات کہاں تک درست تھیں۔ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار نہ ہونے کے بارے میں امریکی معائنہ کاروں کے سابق سربراہ ڈیوڈ کے کے بیان کے بعد بش انتظامیہ پر شدید دباؤ تھا کہ وہ اس معاملے کی انکوائری کرائے۔ صدر بش اس سے پہلے اس سلسلے میں کوئی آزادانہ انکوائری کرانے کی مخالفت کر چکے ہیں تاہم اب انہوں نے اس کا حکم جاری کر دیا ہے جسے کانگریس میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں کے زیادہ دباؤ کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز وائٹ ہاؤس کے ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ انکوائر وارن کمیشن کی طرز پر کرائی جائے گی۔ وارن کمیشن نے صدر کینیڈی کے قتل کی تحقیقات کی تھیں۔ حکومت سے باہر کے ماہرین کےعلاوہ اس تحقیقاتی کمیشن میں دونوں طرف کے سینیٹرز ہوں گے۔ اور انہیں تحقیقات مکمل کرنے کے لیے اگلے سال تک کا وقت دیا جائے گا۔ تاہم اب اعلان کیا گیا ہے کہ انکوائری کمیشن کے ارکان کا تقرر صدر بش کریں گے اور اس کے علاوہ وہی کمیشن کے دائرہ کا بھی تعین کریں گے۔ کمیشن اپنی رپورٹ امریکہ میں صدارتی انتخابات کے بعد پیش کرے گا۔ انتخابات نومبر میں ہونے والے ہیں۔ ادھر وزیراعظم ٹونی بلیئر کے سرکاری ترجمان نے کہا ہے کہ مجوزہ انکوائری کے ذریعے اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی تلاش میں ناکامی کیونکر ہوئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||