ہتھیاروں پر برطانیہ میں بھی انکوائری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے اراکینِ پارلیمان کو بتایا ہے کہ عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے متعلق خفیہ معلومات کے معاملے پر آزادانہ انکوائری کرائی جائے گی۔ ٹونی بلیئر نے کہا کہ اس انکوائری کے سامنے یہ بات ہوگی کہ وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے متعلق خفیہ معلومات جمع کیسے کی گئیں اور حکومت نے انہیں کس طرح استعمال کیا۔ منگل کی دوپہر برطانیہ کے وزیرِ خارجہ جیک سٹرا اس انکوائری کی تفصیلات بتائیں گے۔ تاہم وزیرِ اعظم نے اصرار کیا کہ عراق کے وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے معاملے پر حکومت کو اس الزام سے بری کر دیا گیا ہے کہ اس نے سرکاری دستاویز کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا اور حکومت کی نیک نیتی کا تعین ہٹن کمیشن کی رپورٹ میں ہو چکا ہے۔ دارالعوام کی رابطہ کمیٹی نے ٹونی بلیئر سے کئی چھبتے ہوئے سوال بھی کیے۔ وزیرِ اعظم کے بعد اب وزیرِ خارجہ کمیٹی کو مزید تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔ خیال ہے کہ سابق وزیرِ اعظم مارگریٹ تھیچر اور خود وزیرِ اعظم بلیئر کے دور میں کابینہ کے عہدے پر متعین سیکٹری اس انکوائری کے سربراہ ہوں گے۔ برطانیہ میں آزادانہ تحقیقیات کے اعلان سے قبل گزشتہ روز امریکی صدر جارج بش نے بھی ایسا ہی ایک کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||