| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’غلط معلومات کیسے آئیں؟‘
امریکہ کے صدر جارج بُش نے کہا ہے کہ وہ عراق میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کے بارے میں ’حقیقت جاننا چاہتے ہیں‘۔ وائٹ ہاوس پر اس بات کی تفتیش کے لئے دباؤ بڑھ رہا ہے کہ عراق میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار کیوں نہیں مل سکے۔ برطانوی حکومت پر بھی عراق کے خلاف جنگ سے پہلے خفیہ اداروں سے ملنے والی معلومات کی معتبری کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ برطانوی وزیر اعظم جب منگل کو پارلیمنٹ کے اعلیٰ ارکان کی ایک کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے تو ان سے عراق میں مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کے دعوے کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ تاہم صدر بُش نے جمعہ کے روز اپنے خطاب میں اس طرح کی تفتیش کے بارے میں بات نہیں کی۔ عراق میں ہتھیاروں کی تلاش میں اب تک ناکامی کے بارے میں تفتیش کے مطالبے کی وجہ وائٹ ہاؤس کی طرف سے اس امکان کا اعتراف ہے کہ حملے سے قبل ملنے والی انٹیلی جنس غلط ہو سکتی ہیں۔ امریکہ میں قومی سلامتی کی مشیر کونڈولیزا رائس نے جمعرات کو کہا کہ عراق پر حملے کا جواز بننے والی کچھ اہم معلومات غلط ہو سکتی ہیں۔ خیال ہے کہ عراق میں مہلک ہتھیاروں کی تلاش کے بارے میں کام کرنے والی ٹیم کے سابق سربراہ ڈاکٹر ڈیوڈ کے کے عراق میں اسلحے کے ذخیرے کی عدم موجودگی کے بارے میں بیان کے بعد کونڈولیزا رائس کا بیان مجبوری بن گیا تھا۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حکومت پر جنگ سے قبل ملنے والی معلومات کے بارے میں تحقیقات کے لئے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم نامہ نگار کے مطابق عراق میں مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کے سوال کو عراق پر حملے کے فیصلے کے صحیح یا غلط ہونے سے الگ سمجھا جا رہا ہے۔ امریکی صدر جارج بُش نے جمعہ کو ہی کہا کہ عراق کے معزول صدر صدام حسین ’خطرہ‘ تھے جس سے انہوں نے نمٹا ہے اور اس کے نتیجے میں دنیا پہلے سے محفوظ جگہ ہے اور عراقی عوام کو آزادی ملی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کے ترجمان نے تحقیقات کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے عراق میں ہتھیاروں کی تلاش میں مصروف عراق سروے گروپ کو مزید وقت دیا جانا چاہیے۔ ہتھیاروں کی تلاش کرنے والے معائنہ کاروں کے لئے کوئی ڈیڈلائن نہیں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||