| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’مہلک ہتھیاروں کی اطلاع غلط تھی‘
امریکہ میں اسلحہ کے سابق اعلیٰ معائنہ کار ڈاکٹر ڈیوڈ نے کہا ہے کہ عراق میں جراثیمی اور کیمیائی ہتھیاروں کے انباروں کی موجودگی کے بارے میں اطلاعات غلط تھیں۔ ڈاکٹر کے نے جو گزشتہ ہفتے اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے واشنگٹن میں سینٹ کی کمیٹی کے سامنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کے خفیہ اداروں کی اطلاعات جمع کرنے کے طریقہ کار میں بہت سی خامیاں سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ عراق پر حملے سے پہلے خفیہ اداروں نے حکومت کے دباؤ میں آکر غلط رپورٹیں تیار کیں۔ سینٹ کی عسکری معاملات کے بارے میں کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے انہوں نے اپنا بیان دہرایا کہ عراق میں مہلک ہتھیاروں کے انبار نہیں ہیں۔ ڈاکٹر کے نے کہا کہ عراق میں ہتھیاروں کی تلاش کی ناکامی نے امریکی اداروں کی کمزوریوں کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ یہ بالکل واضح ہے کہ ہمیں اطلاعات حاصل کرنے کے لئے وہ صلاحیت حاصل کرنے کی ضرورت ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے‘۔ انہوں نے اطلاعات کے حصول کے نظام میں خامیوں کے بارے میں آزادانہ تحقیق کی سفارش کی۔ اپنے بیان کے باوجود انہوں نے عراق میں مہلک ہتھیاروں کی تلاش جاری رکھنے کی حمایت کی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کاغذوں کی حد تک اس بات کا امکان موجود ہےکہ ہتھیار مل جائیں گے۔ تاہم انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوا کہا کہ عراق کے ہتھیاروں کے پروگرام کے بارے میں کبھی حل نہ ہونے والا ابہام موجود رہے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||