| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے‘
امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے کہا ہے کہ ایڈز پر قابو پانے کے سلسلے میں امریکہ کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں کہیں زیادہ کوشش کر رہا ہے۔ کولن پاول نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایڈز امریکہ کی قومی سلامتی کا معاملہ ہے اور اس کے باعث دیگر ممالک خاصی ابتری کا شکار ہو چکے ہیں اس لیے بش انتظامیہ آئندہ پانچ برس کے دوران ایڈز پر پندرہ ارب ڈالر خرچ کرنے کے عہد سے انحراف نہیں کرے گی۔
اس ضمن میں کولن پاول نے مجموعی رقم کا ایک تہائی حصہ ان منصوبوں پر خرچ کرنے کے فیصلے کا بھی دفاع کیا جن کے تحت جنسی احتراز کے فروغ کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ بی بی سی کے ساتھ گفتگو کے دوران کالن پاول کی طرف سے یہ اعلان ایسے وقت کیا گیا ہے جب صدر بش نے سن دو ہزار چار میں ایڈز پر قابو پانے کے لیے دو ارب دس کروڑ ڈالر مختص کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ واشنگٹن میں موجود بی بی سی کے مائیکل بیوکینان کا کہنا ہے کہ بیشتر لوگوں یہ توقع کر رہے تھے کہ صدر بش ایڈز پر قابو پانے کے لیے تین ارب ڈالر خرچ کرنے کا اعلان کریں گے۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ پندرہ ارب ڈالر کی پائی پائی ایڈز پر خرچ کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔
کولن پاول نے ایسی تجاویز کو بھی مسترد کیا جن میں کہا گیا تھا کہ مجموعی رقم کا ایک تہائی حصہ جنسی احتراض کے فروغ پر خرچ کیا جانا غیر حقیقت پسندانہ قدم ہو گا۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جنسی احتراض کی مہم میں کونڈوم کےاستعمال اور بہتر علاج معالجے کی تلقین بھی کی جائے گی۔ تاہم ایڈز پر قابو پانے کے سلسلے میں کام کرنے والے سرگرم کارکنوں نے یہ تشویش ظاہر کی ہے کہ دو ارب دس کروڑ ڈالر کی رقم منصوبے پر پوری طرح عمل درآمد کے لیے کافی نہیں ہو گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||