| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
علماء، ایڈز اور آگہی
پاکستان کے صوبہ سرحد میں صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد میں زبردست اضافہ ہورہا ہے اور یہ ان تک بھی پہنچ رہا ہے جن کی کوئی غلطی نہیں۔ اس سے بچاؤ سے متعلق لوگوں میں آگہی پھیلانے کی ایک کوشش صوبائی حکومت مساجد کے ذریعے کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ لیکن کیا یہ کامیاب ہوسکے گی؟ ملک کے دیگر حصوں کی طرح پاکستان کے مذہبی اعتبار سے قدامت پسند سمجھے جانے والے صوبہ سرحد اور اس سے ملحق قبائلی علاقوں میں بھی رفتہ رفتہ ایڈز کے مزید کیس سامنے آرہے ہیں۔ انیس سو ستاسی میں پہلے ایڈز کیس کے سامنے آنے کے بعد سے اب تک سرکاری اعداد وشمار کے مطابق چار سو سے زائد افراد کے اس مرض کے شکار ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ التبہ حکام کو خدشتہ ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے لیکن لوگ معاشرتی ردعمل کے خوف سے سامنے نہیں آرہے۔ ان متاثرہ افراد کی اکثریت ان افراد کی ہے جو خلیجی ممالک میں محنت مزدوری کے لئے جاتے ہیں اور طویل عرصے تک گھروں سے دور رہتے ہیں۔ اس سلسلے میں بڑی تعداد کا تعلق نیم خودمختار قبائلی علاقوں سے ہے۔ سرکاری اعداد کے مطابق کُرم ایجنسی ایڈز سے متاثرہ افراد میں سب سے زیادہ یعنی بیالیس ہے۔ اس کے بعد شمالی وزیرستان میں چھبیس، جنوبی وزیرستان میں اٹھارہ، بنوں سولہ، ہنگو پندرہ، اورکزئی سات، سوات نو، چارسدہ چھ، مردان چار، دیر چار، صوابی تین، ڈیرہ اسمائیل خان تین، اور کرک میں ایک شخص متاثر پایا گیا ہے۔ ان متاثرہ افراد کی پیشے کے اعتبار سے تقسیم بھی انتہائی دلچسپ ہے۔ دو ماہ پہلے تک دو سو باؤن مرد جبکہ چوبیس خواتین اس سے متاثر ہیں۔ ان میں تراسی افراد مزدوری کے پیشے سے منسلک ہیں، اکتالیس ڈرائیور، چار تاجر برادری، بیس گھریلو خواتین، سات شیرخوار بچے اور ایک طالب علم شامل ہیں۔ اس ایڈز کے بارے میں لوگوں تک آگہی پہنچانے کی غرض سے صوبائی حکومت مساجد اور علما کے اہم کردار سے فائدہ اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ صوبائی سطح پر ایڈز پر قابو پانے کے پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر جاوید خان نے بتایا کہ موجودہ صوبائی حکومت علماء کو ورکشاپوں میں بلا کر تربیت دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے جو صحت اور خصوصاً ایڈز جیسے امراض کے بارے میں لوگوں کو آگہی دیں گے۔ ’ان اراکین محراب و ممبر کا اہم کردار ہے۔ ان کی بات ہر کوئی غور سے سنتا ہے۔‘ لیکن علماء کا موقف ہے کہ وہ مختلف موضوعات پر آگہی پھیلاتے رہتے ہیں اور اس سلسلے میں حکومتی کوشش کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ صوبہ کی ایک معروف مذہبی شخصیت مولانا حسن جان کا کہنا تھا کہ حکومت کا علماء کو بتانا کہ انہیں کیا کرنا چاہیے درست نہیں۔ ’ہم لوگ تو اپنے خُطبات اور واعض میں صحت اور صفائی کی معملات پر بات کرتے ہیں۔ لیکن ہم حکومت کے غلام نہیں کہ اس کے کہنے پر کوئی بات کریں۔ عام تاثر یہی ہے کہ علماء حضرات مساجد میں دینی مسائل کی جانب زیادہ اور ایڈز جیسے موضوعات پر بات کم کرتے ہیں۔ پشاور کے چند شہریوں سے پوچھا کہ کیا ایڈز کے بارے میں مساجد میں بات ہونی چاہیے یا نہیں تو ان میں سے اکثریت اس کے حق میں تھی۔ التبہ ایک مذہبی پس منظر رکھنے والے کا کہنا تھا کہ علماء حضرات کو علماء ہی رہنے دیں انہیں ڈاکٹر نہ بنائیں۔ ایڈز کے بارے میں معلومات لوگوں تک پہنچانا اب اس لئے بھی ضروری ہوگیا ہے کہ اس مرض کا منظرنامہ تبدیل ہورہا ہے۔ ڈاکٹر جاوید کا کہنا ہے کہ پہلے تو صرف وہ لوگ زیادہ متاثر ہو رہے تھے جن کا جنسی تعلقات یا غلطی کی وجہ سے اس مرض میں مبتلا ہوئے لیکن اب بے قصور افراد جیسے کہ خواتین اور بچے بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ’ضرورت اس بات کی ہے کہ ان افراد کو اب بچانے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ مساجد کی اسلامی معاشرے میں اہمیت سب کو معلوم ہے۔ لیکن ماہرین کے بقول ضرورت اس کو ایڈز جیسے امراض سے بچاؤ کے اہم کام کے لئے زیادہ مفید بنانے کی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||