| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’مذہبی رہنماؤں کا اہم کردار ہوگا‘
پاکستان کے نیشنل ایڈز پروگرام نے اپنی حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی کی ہے۔ نیشنل ایڈز پروگرام کی سربراہ آسما بخاری نے بی بی سی کو بتایا کہ ماضی میں پروگرام کا بیشتر کام صحت کے شعبے میں ہوتا تھا جبکہ نئے پروگرام کا ایک اہم حصہ صحافیوں اور مذہبی رہنماؤں کے ساتھ کام کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے ایڈز کے مرض کے بارے میں آگہی کے لئے صرف اشتہارات چلائے جاتے تھے لیکن اب اس کے لئے این جی اوز، ذرائع ابلاغ اور مذہبی رہنماؤں کے ذریعے معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ’پہلے ہم صرف ون وے میسیجز دیتے تھے لیکن اب ہم اِنٹرایکٹیو طریقہ استعمال کریں گے۔ اس سلسلے میں ہم نے میڈیا سے مشاورت کے بعد مذہبی رہنماؤں سے بھی بات کی یہ جاننے کے لئے کہ ہم کیسے ساتھ چل سکتے ہیں۔‘ مذہبی رہنماوں کے ساتھ ستمبر میں ایک مشاورتی اجلاس کیا گیا اور بقول ڈاکٹر بخاری ان مذہبی رہنماؤں نے بہت تعاون کیا۔ ’انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ ہمیں ماڈل خطبات لکھ کر دیں تاکہ ہم جمعہ کی نماز اور دوسرے اجتماعات پر اس موضوع پر بات کر سکیں۔‘ اس اجلاس میں لوگوں کو کونڈوم کی اہمیت کے بارے میں بتانے کی بھی بات ہوئی تو مذہبی رہنماؤں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ ’ ان کا کہنا تھا کہ یہ انسانی زندگی کا معاملہ اور آگے بیمارے پھیلنے کا خطرہ ہے۔‘ لیکن کیا پاکستان میں معلوماتی پیغامات میں کونڈوم کا ذکر ممکن ہوسکے گا؟ ’جی بالکل۔ کچھ ہفتے پہلے ہم نے سرکاری اخبارات میں یہ اشتہار چلایا تھا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ ’بیماری سے بچنے کے لئے کونڈوم استعمال کریں‘ اور اس پر کہیں سے کوئی اعتراض نہیں ہوا۔‘ نیشنل ایڈز پروگرام کی سربراہ نے بتایا کہ اس اجلاس میں پاکستان کے عیسائی اور ہندو نمائندوں سمیت ملک کے سارے مکاتب فکر کے رہنما اور نمائندے آئے تھے۔ اب پاکستان کے ایڈز پروگرام کی کوشش ہے کہ وہ مذہبی رہنماؤں سے رابطہ رکھیں اور ان کے ذریعے ایڈز کے بارے میں آگہی پھیلائیں۔ اس نوعیت کا ایک اور اجلاس اب دسمبر میں ہوگا۔ ستمبر والے اجلاس سے پہلے نیشنل ایڈز پروگرام نے یہ جاننے کے لئے ایک محدود جائزہ کرایا تھا کہ لوگوں کو ایڈز کے بارے میں کتنا پتا ہے۔ اس جائزے سے یہ معلوم ہوا تھا کہ پچھتر فیصد سے زیادہ لوگوں کو پتہ تھا کہ ایڈز ہے کیا بیماری اور کیسے پھیلتی ہے۔ لیکن ساتھ کئی غلط فہمیوں کا بھی پتا چلا جن میں سب سے بڑی یہ غلط فہمی تھی کہ ایڈز صرف مغربی دنیا کی بیماری ہے اور اس کو ایک سازش کے تحت انجیکشن سے پاکستان میں پھیلایا جا رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||