| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہمارا کیا قصور؟
ایڈز جوان، بوڑھوں اور بچوں، کسی کو بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن جن بچوں کو یہ بیماری والدین سے وراست میں ملی ہے ان کا یہ پوچھنا حق بجانب ہے کہ اس میں ان کا کیا قصور ہے؟ خاص طور پر اس صورت میں جب اس طرح کے بچوں کو سماج کی برہمی کا سامنا ہو۔ یہ داستان ہے بھارتی ریاست کیرالا کےگاؤں کیتھاکنجی کی سات برس کی بینسی اور پانچ سال کے بینسن کی۔ گاؤں کے سب بچے جب گھروں سے کھیلنے کے لئے دوڑ لگاتے ہیں تو دو ایسے بچے بھی ہیں جو چاہتے ہوئے بھی ان میں شامل نہیں ہو پاتے۔ یہ دو بچے سکول بھی نہیں جاتے، بلکہ سکول کے قریب واقع ایک لائبریری میں جاکر خود ہی پڑھتے ہیں۔ ان کا کوئی دوست بھی نہیں ہے۔
بینسی اور بینسن کے جسم میں ایچ آئی وی یعنی ایڈز کا وائرس ہے۔ ان کا باپ انیس سو ننانوے میں فوت ہوگیا، جس کے صرف ایک سال بعد ماں بھی رہلت کرگئیں۔ دونو ں کو ایڈز تھا۔ والدین کی موت کے بعد ان کے نانا، ورگیس نے ان بچوں کی دیکھ بال کی۔ دونوں بچے کچھ عرصہ قبل کیتھاکنجی کے ایل پی سکول میں پڑھتے تھے لیکن انہیں وہاں سے نکال دیا گیا۔ نانا ورگیس کو لوگوں سے بہت شکایتیں ہیں۔ بینسن اور بینسی کو نہیں معلوم کہ انہیں ایڈز ہے۔ ان کی روز مرہ کی زندگی مشکل گزار ہے لیکن ان کا بچپن ویسا ہی ہے جیسا سب بچوں کا ہوتا ہے۔ معصوم۔ دوستوں کی کمی بڑی محسوس ہوتی ہے۔ ورگیس کا کہنا ہے کہ ’ان بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ دوسرے بچے ان کے ساتھ کھیلنے سے گریز کرتے ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ انہیں بھی یہ بیماری نہ لگ جائے۔‘ میں نے جب ان بچوں سے بات کی تو انہوں نے مجھے ملیالم میں ایک نظم سنائی، چونکہ مجھے ملیالم سمجھ نہیں آتی میں نے نانا ورگیس سے اس کا مطلب دریافت کرنا چاہا۔ نظم کا مرکزی خیال صرف اتنا ہے کہ ’دنیا انہیں الگ کیوں کر رہی ہے۔‘ ان بچوں کا کیا ہوگا؟ ان کے والدین نہیں ہیں، نانا کے بعد ان کا کیا ہوگا؟ ایڈز کے تدارک کے لئے کیرالا میں سرگرم ایک تنظیم کے نائب ڈائریکٹر ڈاکٹر ایم پرسن کمار کا کہنا ہے: ’ان بچوں کی کہانی ایک خاص معاملہ ہے۔ ہمیں خبر ہے کہ کیرالا میں بہت سے ایچ آئی وی پازیٹیو بچے سکولوں میں زیر تعلیم ہیں لیکن انکے بارے میں بتایا نہیں گیا ہے۔‘ پرسن کمار نےمزید کہا کہ ’چند معاملوں میں جانتے ہوئے بھی انہیں سکولوں سے نہیں نکالا گیا ہے۔ بینسی اور بینسن کے معاملے میں کچھ سیاست کا اثر بھی رہا ہے۔ تاہم لوگوں میں اب تبدیلی نظر آ رہی ہے اور ہمیں امید ہے کہ کبھی نہ کبھی وہ سکول واپس جا پائیں گے۔‘ بینسی اور بینسن کی کہانی دور دور تک پہنچی، بھارتی صدر کے ہاں بھی دہائی ہوئی، لیکن یہ بچے آج بھی اسی لائبریری میں اکیلے پڑھتے ہیں۔ اور اب ریٹائرڈ نانا ورگیس کو پیسوں کی بڑی قلت کا سامنا بھی ہے۔ تاہم ایک پیش رفت سے کسی حد تک امید جاگی ہے۔ ان بچوں سے بات چیت کے بعد میں نے بھارتی وزیر صحت سشما سوراج سے ان کا ذکر کیا۔ اسی روز ایک سرکاری کمپنی سے کہہ کر وزیر صحت نے ان کی پانچ برس کی دواؤں کا انتظام کرالیا۔ میں نے صرف ایسے دو بچوں سے ملاقات کی، ایسے ہزاروں اور بھی ہیں۔۔۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||