| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’عراق کے پاس ڈبلیو ایم ڈی نہیں تھے‘
امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے اعتراف کیا ہے کہ عراق پر امریکی حملے سے قبل وہاں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا شاید کوئی ذخیرہ موجود نہیں تھا۔ امریکی وزیر خارجہ جنہوں نےگزشتہ سال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے عراق پر حملہ کرنے کے فیصلے کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ عراق کے پاس بڑی تعداد میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں اب ان ہتھیاروں کو موجودگی کے بارے میں شبہے کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل میں دیئے گئے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کو اس بات کا یقین ہے کہ عراق کے پاس سو سے پانچ سو ٹن تک کیمیائی اور جراثیمی مواد موجود ہے۔ لیکن اب عراق پر حملے کے کئی ماہ بعد انہوں نے کہا ہے کہ ابھی اس سوال کا جواب ملنا باقی ہے کہ کیا عراق کے پاس واقعی وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود تھے۔ کولن پاول نے جارجیا سے امریکہ واپس جاتے ہوئے یہ بیان دیا ہے۔ اس سے ایک روز قبل عراق میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تلاش کا کام کرنے والے گروپ کے سربراہ ڈاکٹر ڈیوڈ کے نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اپنا استعفیٰ پیش کرنے کے بعد انہوں نے عراق میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاورں کی موجودگی کے بارے میں گہرے شک و شبہے کا اظہار کیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||