BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 March, 2004, 13:28 GMT 18:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وانا: چودہ میں سے بارہ یرغمالی رہا

وانا
وانا میں یرغمال بنائے گئے12 فوجی رہا کر دیئے گئے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں القاعدہ اور طالبان کے مشتبہ حامیوں نےاتوار کو چودہ میں سے بارہ یرغمال سپاہیوں کو حکومت کے حوالے کر دیا۔

باقی دو تحصیلداروں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہیں بھی ایک دو روز میں چھوڑ دیا جائے گا۔

صدر مقام وانا سے موصول اطلاعات کے مطابق یرغمال قیدیوں کو قبائلی عمائدین کے ایک جرگے کے محاصرے والے علاقے میں حوالے کیا گیا۔ ان کی رہائی ہفتے کے روز مشتبہ عسکریت پسندوں سے قبائلی عمائدین اور علما کے مذاکرات کے دوران طے پائی تھی۔

محاصرہ ختم
 ’جس علاقے کا محاصرہ کیا گیا تھا وہ دراصل القاعدہ کا گڑھ تھا اور اب محاصرہ اسی لئے ختم کیا گیا ہے کیونکہ علاقے کی تلاشی لی جا چکی ہے اور کئی مشتبہ افراد کی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔
محمود شاہ

اس صورتحال پر قبائیلی علاقوں میں سیکیورٹی کے چیف محمود شاہ کا کہنا تھا کہ ’جس علاقے کا محاصرہ کیا گیا تھا وہ دراصل القاعدہ کا گڑھ تھا اور اب محاصرہ اسی لئے ختم کیا گیا ہے کیونکہ علاقے کی تلاشی لی جا چکی ہے اور کئی مشتبہ افراد کی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔

اس دوران تقریباً پچاس سے ساٹھ کے قریب افراد مارے گئے ہیں جن میں سے چھ یا سات لاشیں ملی ہیں‘۔

اس ماہ کی سولہ تاریخ کو وانا کے مغرب میں اعظم ورسک اور کلوشہ کے علاقے میں فرنٹیر کور کی ایک کارروائی کے دوران ان چودہ افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ اس کاروائی میں پندرہ سپاہی ہلاک بھی ہوئے تھے۔

رہائی پانے والے سپاہی اچھی حالت میں نظر آرہے تھے۔ باقی ماندہ دو تحصیلداروں کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ انہیں یرغمال بنانے والوں سے رابطے کی کوشش کی جا رہی ہے اور انہیں بھی جلد رہا کر دیا جائے گا۔

وانا کے12 یرغمال رہا
 اس خبر پر عوامی حلقوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ مقامی اور دیگر قبائلی علاقوں سے آئے ہوئے عمائدین اور علما پر مشتمل جرگے کی یہ پہلی بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔

ادھر وانا میں کئی روز کے جرگے اور مذاکرات کا تقریبا نہ رکنے والا سلسلہ بلاآخر اس حد تک کامیاب ہوا کہ وہ بارہ نیم فوجی فرنٹیر کور کے سپاہیوں اور دو مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں کی رہائی ممکن بنا سکا ہے۔

ان بارہ یرغمالیوں نے بارہ روز کی قید کے بعد رہائی پائی ہے۔ مذاکرات کا یہ عمل ایک ایسے نازک وقت میں کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے جب علاقے میں کل آٹھ فوجیوں کی لاشیں ملنے کے بعد لوگوں میں کافی تشویش اور خوف پایا جاتا تھا۔ اس رہائی سے مبصرین کے خیال میں علاقے کی کشیدگی میں کمی آئے گی۔

اس خبر پر عوامی حلقوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ مقامی اور دیگر قبائلی علاقوں سے آئے ہوئے عمائدین اور علما پر مشتمل جرگے کی یہ پہلی بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔

جرگے کے ارکان کا کہنا ہے کہ انہوں نے نامعلوم مقام پر القاعدہ کے مشتبہ مقامی حامیوں سے مذاکرات میں انہیں غیرمشروط طور پر رہا کرنے کے لیے قائل کر لیا۔

پاکستان میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں حالیہ کاروائی میں القاعدہ کا کہ اہم رہنما طاہر یولدش زخمی ہوئے ہیں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا ازبکستان سے تعلق رکھنے والے طاہر یولدش کے زخمی ہونے سے متعلق بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب علاقے میں فوجی کاروائی جاری ہے۔

مبصرین کے خیال میں فی الحال ایسے بیان سے احتراز کیا جانا چاہئے کیونکہ اس سے کہیں مطلوب شخص چوکنا نہ ہوجائے۔ البتہ فوجی ترجمان کے بیان سے بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ طاہر یولدش فی الحال حکام کے چنگل سے بچ نکلنے میں کامیاب رہا ہے۔

فوجی اہلکاروں کے مطابق انہیں یہ اطلاع علاقے سے حراست میں لئے گئے ایک سو ساٹھ افراد کی تفتیش کے بعد ملی ہے۔

طاہر کا تعلق شدت پسند تنظیم اسلامک موومنٹ فار ازبکستان سے بتایا جاتا ہے۔ اس کا نام پہلے بھی علاقے میں موجود القاعدہ کے کسی بڑے رہنماوں کی موجودگی کے سلسلے میں سامنے آیا تھا۔

دریں اثنا فوجی حکام بھی یہ اعلان کر رہے ہیں کہ اس علاقے میں ان کا اٹھارہ تاریخ کو شروع ہونے والا موجودہ مشن آخری مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔

جنوبی وزیرستان میں کی جانے والی یہ تازہ کاروائی مبصرین کے خیال میں ایک اعتبار سے ماضی کی کاروائیوں سے مختلف رہی کیونکہ اس کے دوران ذرائع ابلاغ کو معلومات کی فراہمی میں کنجوسی سے کام لیا گیا۔ اب بھی بات آپریشن کے خاتمے کی ہو رہی ہے لیکن صحیح صورتحال اب بھی واضع نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد