BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 March, 2004, 09:19 GMT 14:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وانا: یرغمال سرکاری اہلکار رہا
News image
اطلاعات کے مطابق یرغمالیوں کی رہائی میں قبائلی جرگہ نے اہم کردار ادا کیا
جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں نیم فوجی دستے کے بارہ سپاہیوں سمیت چودہ یرغمالی رہا کر دیئے گئے ہیں جبکہ اس قلعہ نما مکان کا محاصرہ ختم کیا جا رہا ہے جس کے بارے میں خیال تھا کہ وہاں اسلامی شدت پسندوں نے پناہ لے رکھی ہے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق قبائلی علاقوں کے لئے سکیورٹی چیف برگیڈیئر محمود شاہ نے بتایا ہے کہ محاصرے کے مقاصد حاصل کر لیے گئے ہے اس لئے اتوار کی شام تک فوج مذکورہ علاقے سے محاصرہ اٹھا لے گی۔

اس سے قبل یرغمالی بنانے والوں نے مذاکرات کی غرض سے آئے عمائدین اور علماء پر مشتمل ایک جرگے کو سنیچر کے روز یقین دہائی کروائی تھی۔

جرگے میں جنوبی وزیرستان کے موجودہ ایم این اے مولانا عبدالمالک اور سابق رکن قومی اسمبلی مولانا نور محمد کے علاوہ شمالی وزیرستان کے سابق رکن قومی اسمبلی مولانا دیندار بھی شامل تھے۔

مذاکرات کا یہ عمل ایک ایسے نازک وقت میں کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے جب علاقے میں آٹھ فوجیوں کی لاشیں ملنے کے بعد لوگوں میں کافی تشویش اور خوف پایا جاتا تھا۔

محاصرے والے علاقے میں گھر گھر تلاشی کا عمل سنیچر کو بھی جاری رہا۔

مبینہ القاعدہ اور طالبان شدت پسندوں کے خلاف اس ماہ کی سولہ تاریخ کو وانا کے اطراف میں کارروائی شروع کی گئی تھی جس میں اب تک عام شہریوں تک متعدد افراد مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد