وانا: یرغمال سرکاری اہلکار رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں نیم فوجی دستے کے بارہ سپاہیوں سمیت چودہ یرغمالی رہا کر دیئے گئے ہیں جبکہ اس قلعہ نما مکان کا محاصرہ ختم کیا جا رہا ہے جس کے بارے میں خیال تھا کہ وہاں اسلامی شدت پسندوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق قبائلی علاقوں کے لئے سکیورٹی چیف برگیڈیئر محمود شاہ نے بتایا ہے کہ محاصرے کے مقاصد حاصل کر لیے گئے ہے اس لئے اتوار کی شام تک فوج مذکورہ علاقے سے محاصرہ اٹھا لے گی۔ اس سے قبل یرغمالی بنانے والوں نے مذاکرات کی غرض سے آئے عمائدین اور علماء پر مشتمل ایک جرگے کو سنیچر کے روز یقین دہائی کروائی تھی۔ جرگے میں جنوبی وزیرستان کے موجودہ ایم این اے مولانا عبدالمالک اور سابق رکن قومی اسمبلی مولانا نور محمد کے علاوہ شمالی وزیرستان کے سابق رکن قومی اسمبلی مولانا دیندار بھی شامل تھے۔ مذاکرات کا یہ عمل ایک ایسے نازک وقت میں کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے جب علاقے میں آٹھ فوجیوں کی لاشیں ملنے کے بعد لوگوں میں کافی تشویش اور خوف پایا جاتا تھا۔ محاصرے والے علاقے میں گھر گھر تلاشی کا عمل سنیچر کو بھی جاری رہا۔ مبینہ القاعدہ اور طالبان شدت پسندوں کے خلاف اس ماہ کی سولہ تاریخ کو وانا کے اطراف میں کارروائی شروع کی گئی تھی جس میں اب تک عام شہریوں تک متعدد افراد مارے جا چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||