وانا آپریشن میں بتیس ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں منگل کے روز قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم میں بتیس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ آئی ایس پی آر نے اس تعداد کی تصدیق کردی ہے۔ پاکستان کے سرکاری ٹیلیویژن کے مطابق بتیس ہلاک ہونے والے افراد میں آٹھ نیم فوجی اہلکار اور القاعدہ کے تقریباً چوبیس ارکان شامل ہیں۔ پاکستان کے وزیر داخلہ کے مطابق اس کارروائی میں پاک فوج کا کوئی جوان ہلاک نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ’چوبیس کے قریب شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں تاہم ان کی صحیح تعداد کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائی وانا سے دس بارہ کلومیٹر دور ایک علاقے میں کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے عام آبادی پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے‘۔ اب سے پہلے حکام نے چار نیم فوجی اہلکاروں اور تین عسکریت پسندوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی تھی۔ حکام کو شک تھا کہ مرنے والوں میں ایک غیر ملکی بھی شامل ہے۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ کاروائی علاقے میں روپوش القاعدہ اور طالبان کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے۔ صدر پرویز مشرف کی جانب سے قبائلیوں کو القاعدہ کے خلاف مہم میں تعاون کی اپیل کے ایک روز بعد جنوبی وزیرستان کی انتظامیہ نے منگل کے روز یہ تازہ کاروائی کی۔ ماضی کے برعکس اس مرتبہ پاکستان فوج کی جگہ نیم فوجی دستوں یعنی فرنٹیر کور اور مقامی خاصہ دار فورس نے اس تلاشی کے آپریشن میں حصہ لیا۔ ایجنسی کے مرکز وانا سے موصول اطلاعات کے مطابق فرنٹیر کور کے سینکڑوں جوان شہر سے مغرب میں اعظم ورسک کے علاقے میں کلوشاہ گاؤں ایک مرتبہ پھر الصبح پہنچے اور چند مکانات کا گھیراؤ کیا۔ لیکن اس موقع پر عینی شاہدین کے مطابق مقامی قبائلیوں کی جانب سے مزاحمت ہوئی۔ فریقین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا اور بھاری اسلحہ کے استعمال کی بھی اطلاعات ہیں۔ لیکن فوجی حکام بھاری اسلحے یا فوجیوں کے گھیرے جانے کے بارے میں خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق ایک اطلاع پر کی جانے والی اس کاروائی میں تقریبا سات سو جوانوں نے حصہ لیا ہے۔ علاقے کو جانے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور کسی کو جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ وانا کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی جیسی صورتحال دیکھی جا رہی ہیں۔ آخری اطلاعات تک کاروائی جاری تھی۔ حکام نے مذاکرات کے لئے مقامی علما اور قبائلی مشران کو دعوت دی ہے۔ یہ کاروائی صدر پرویز مشرف کے پشاور میں پیر کے روز جاری کئے گئے اس بیان کے بعد شروع ہوئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے پانچ سے چھ سو غیرملکی افراد چھپے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ساتھ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ قبائیلیوں کا تشکیل کردہ لشکر خوش آئند ہے لیکن اس کی ناکامی قبول نہیں کی جائے گی۔ مقامی زلی خیل قبائل نے چھ سو مسلح افراد پر لشکر تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا لیکن وہ حکومت کو مطلوب افراد کے خلاف کاروائی یا انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے میں اب تک ناکام رہے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||