وانا آپریشن جاری رہے گا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نےکہا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی بھرپور طریقے سے جاری رہے گی اور کسی کو بھی پاکستان کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔ حسن ابدال کیڈٹ کالج کی گولڈن جوبلی تقریب کے موقع پر مہمانوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نےمزید کہا کہ جو کچھ بھی وانا میں ہو رہا ہے اس کا اسلام سے کوئی سروکار نہیں اور نہ ہی یہ مسلمانوں یاغیرمسلموں کے لئے کوئی تشویش کی بات ہے۔ وانامیں لوگ دہشت گردی کر رہے ہیں چاہے وہ مسلمان ہوں یاغیر مسلم اور اس بات کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ صدر مشرف نےدعویٰ کیا کہ حال ہی میں ان پر کئےگئے خودکش حملوں کے منصوبہ ساز القاعدہ کے لوگ تھے، وہ غیرملکی ہیں اور ان کو القاعدہ کہو یا کچھ اور کہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ دہشتگرد عناصر عام لوگوں کو بھرتی کرتے ہیں اور دہشت گردی کرتے ہیں۔ ٹیکسلا، کراچی اور مری سمیت پاکستان میں زیادہ تر ہونےوالے بم دھماکوں کےمنصوبہ ساز بھی یہی لوگ تھے۔ جنرل مشرف نے کہا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہیں یا غیرمسلم لیکن وہ پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں جس کی وہ ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نےکہا کہ حکومت نے ان لوگوں کوکہا ہے کہ پاکستان کونقصان نہ پہنچائیں اور ان کومعافی دینےکا بھی کہا ہے لیکن اس کے باوجود وہ دہشت گردی پر تلے ہوئے ہیں۔ لہذا ان کے خلاف حکومت کو بھرپور کارروائی کرنی ہوگی۔ جنرل مشرف نے طلباء پر بھی زور دیا کہ وہ برداشت کا مادہ پیدا کریں، کسی پراپناموقف مسلط نہ کریں اور سب کی بات برداشت کریں اور سنیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||