وانا کارروائی پر وکلاء کا احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی وکلاء تنظیموں نے جنوبی وزیرستان کے قبائلی علاقہ میں فوج کی کاروائی کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ آج ملک بھر میں وکلاء کی تنظیموں نے وانا میں کی جانے والی فوجی کاروائی کے خلاف احتجاجی جلسے منعقد کیے ہیں۔ جمعہ کی صبح لاہور میں ہائی کورٹ کی عمارت میں کیانی ہال میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا اجلاس ہوا جس میں سو سے زیادہ وکلاء نے شرکت کی اور قرار داد منظور کی کہ وانا میں فوجی آپریشن فورا بند کیا جاۓ اور سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر پر مشتمل ایک کمیشن بنایا جاۓ جو اس واقعہ کی تحقیقات کرے۔ بار ایسوسی ایشن نے صدر جنرل پرویز مشرف سے اپنے عہدے چھوڑنے کا مطالبہ بھی کیا۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احمد اویس نے تقریر کرتے ہوۓ کہا کہ ’ہم ایک سانحے سے گزر رہے ہیں اور افواج پاکستان جنرل مشرف کے کہنے پر قبائیلیوں کا خوں بہارہی ہیں اور ہم اس کا خون بہا مانگتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف وانا میں آپریشن کرکے صدر بش کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں کیونکہ انہیں پتا ہے کہ اگر بش ہار گۓ تو وہ بھی وردی اور اقتدار سے محروم ہوجائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف یہ کاروائی کرکے صدر بش سے اپنی وفاداری دکھارہے ہیں جس کی ہم پُرزور مذمت کرتے ہیں۔ احمد اویس نے کہا کہ قبائلیوں کے پاکستان پر بہت احسانات ہیں اور افسوس ہے کہ آج ہم اس طرح ان احسانات کا بدلہ اُتار رہے ہیں۔ بار کے صدر نے کہا کہ قبائیلیوں کے خون کا ہر قطرہ مقدس ہے اور ہم اس کا حساب لیں گے اور جلد اس کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||