فوجیوں کی رہائی‘ قبائلیوں کا انکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی وزیرستان کے قبائلی سرداروں نے بارہ پاکستانی فوجیوں اور دو اہلکاروں کی رہائی سے انکار کر دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جب تک پاکستانی فوج علاقہ خالی نہیں کر دیتی یہ رہائیاں ممکن نہیں ہوں گی۔ یرگلخیل قبیلے کے افراد اُن کئی سو جنگوؤں کے ساتھ مل کر پاکستانی فوج کے خلاف لڑ رہے ہیں جن کا تعلق القاعدہ تنظیم سے بتایا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ فرنٹیئر کنسٹیبلری کے بارہ اہلکاروں اور مقامی انتظامیہ کے دو افراد کو گزشتہ ہفتے جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے آغاز میں یرغمال بنایا گیا تھا۔ پاک فوج کے مسلح دستوں اور قبائلی شدت پسندوں کے مابین ہونے والی پہلی جھڑپ میں تیس سپاہی ہلاک ہوئے تھے۔ مبصرین کے مطابق قبائلی سرداروں کا یہ نیا مطالبہ حکومت اور قبائل کے درمیان تعطل کا شکار ہو جائے گا۔ فی الحال دونوں جانب سے جنگ بندی قائم ہے اور کسی نئے واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ دریں اثنا صورتحال کے حل کے لئے مذاکرات جاری ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||