BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 March, 2004, 09:30 GMT 14:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چودہ یرغمالیوں کی رہائی کا امکان

وانا میں فوجی کارروائی
جنوبی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں القاعدہ کے مشتبہ حامیوں نے یرغمال بنائے جانے والے بارہ سپاہیوں اور دو تحصیلداروں کی رہائی پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔

یہ یقین دہانی یرغمالی بنانے والوں نے مذاکرات کی غرض سے آئے عمائدین اور علماء پر مشتمل ایک جرگے سے محصور علاقے میں ملاقات کے دوران دلائی۔ خیال ہے کہ یہ یرغمال افراد اتوار کی دو پہر تک رہا کر دیے جائیں گے۔

حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے خصوصی اجازت نامے کے ساتھ قبائلی علاقوں سے سابق اور موجودہ پارلیمنٹرین اور علماء پر مشتمل نصف درجن گاڑیوں کا یہ قافلہ ہفتے کی صبح اعظم ورسک کے علاقے کے لئے روانہ ہوا تھا۔

سہ پہر یہ جرگہ کامیاب مذاکرات کے بعد واپس وانا لوٹا جہاں اس نے رہائی کی خبر جاری کی۔ جرگے میں جنوبی وزیرستان کے موجودہ ایم این اے مولانا عبدالمالک اور سابق رکن قومی اسمبلی مولانا نور محمد کے علاوہ شمالی وزیرستان کے سابق رکن قومی اسمبلی مولانا دیندار بھی شامل تھے۔

مولانا عبدالمالک نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو وانا سے فون پر بتایا کہ یہ رہائی غیرمشروط ہے۔ انہوں نے اس کے بدلے حکومت کی جانب سے کسی سہولت سے بھی انکار کیا اور کہا کہ قبائلی جرگہ اس سلسلے میں جلد حکومت سے مذاکرات کرے گا۔

مذاکرات کا یہ عمل ایک ایسے نازک وقت میں کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے جب علاقے میں آٹھ فوجیوں کی لاشیں ملنے کے بعد لوگوں میں کافی تشویش اور خوف پایا جاتا تھا۔ اس سے مبصرین کے خیال میں علاقے میں کشیدگی میں کمی آئے گی۔

البتہ پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ حکومت غیرملکیوں کے ہتھیار ڈالنے کے بغیر کسی بات پر رضامند نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کی کوششیں جرگہ خود کر رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہ وہ ان یرغمالیوں کے زندہ ہونے کے بارے میں کتنے پرامید ہیں تو انہوں نے کہا اس میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔

ادھر گذشتہ روز ہلاک کئے جانے والے آٹھ فوجیوں کی نماز جنازہ پشاور میں ادا کی گئی جس کے بعد میتیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں۔

محاصرے والے علاقے میں گھر گھر تلاشی کا عمل آج بھی جاری رہا البتہ کسی مزاحمت کی اطلاع نہیں ہے۔ البتہ چند علاقوں کے راستے آج کھول دیے جانے کی اطلاع بھی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد