BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 March, 2004, 14:56 GMT 19:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’یرغمالی‘ فوجیوں کی لاشیں برآمد

وزیرستان میں مرنے والے فوجیوں کی تعداد بیس ہوگئی ہے۔
وزیرستان میں مرنے والے فوجیوں کی تعداد بیس ہوگئی ہے۔
پاکستان کے فوجی حکام نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ انہیں جمعہ کے روز جنوبی وزیرستان سے آٹھ مزید فوجیوں کی لاشیں ملی ہیں۔ یہ فوجی اس قافلے کا حصہ تھے جس پر گزشتہ پیر کے روز نامعلوم حملہ آوروں نے گھات لگا کر وار کیا تھا۔ اس تصدیق سے اس حملے میں مرنے والے فوجیوں کی تعداد بیس ہوگئی ہے۔

یہ فوجی ان بارہ فرنٹیر کور کے سپاہیوں کے علاوہ ہیں جنہیں سولہ مارچ کو یرغمالی بنالیا گیا تھا۔افواہیں ہیں کہ برآمد ہونے والی لاشیں مسخ شدہ تھیں۔

پاکستان فوج کے تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان افراد کو قافلے پر حملے کے بعد یرغمالی بنایا گیا تھا۔ ان کی لاشیں کنڈے غر کے علاقے سے ملیں ہیں جو سروکئی کے مقام سے جہاں یہ حملہ ہوا تھا دو کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ ان لاشوں کی نشاندھی ایک عورت نے کی جو اس علاقے میں مویشی چرا رہی تھی۔

اطلاعات کے مطابق لاشیں تازہ حالت میں ملیں ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں حال ہی میں قتل کیا گیا تھا۔

فوجی ترجمان نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیا اور کہا کہ اس کے ذمہ دار افراد کسی رحم کے حقدار نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں کافی قریب سے گولیاں ماری گئی تھیں۔

ادھر قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام اور قبائلی عمائدین مزاحمت کرنے والوں سے سپاہیوں اور سرکاری اہلکاروں کی بازیابی کے لئے بات چیت میں مصروف ہیں۔ البتہ القاعدہ کے مشتبہ حامیوں کی جانب سے فوج کے علاقے سے چلے جانے کے بعد مذاکرات میں تعطل آگیا ہے۔ اس تعطل کے خاتمے کے لئے علما کا ایک وفد اب فوج کے محاصرے میں افراد سے بات چیت کی کوشش کرے گا۔

لیکن اس سے قبل جو قبائلی عمائدین کا وفد مزاحمت کرنے والوں سے بات چیت کے لئے گیا تھا وہ خاطر خواہ کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ البتہ القاعدہ کے مقامی حامیوں نے حکومت کی تین شرائط کے جواب میں اپنی شرائط سامنے رکھی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ان بارہ سپاہیوں اور دو سرکاری اہلکاروں کی رہائی اس وقت تک ممکن نہیں ہوگی جب تک فوج علاقے سے چلی نہ جائے اور مقامی آبادی کو واپس اپنے گھروں میں آنے کی اجازت نہ دی جائے۔

ادھر جنوبی وزیرستان میں مزید فوجی کمک بھیجے جانے کی اطلاع ہے لیکن سرکاری سطح پر اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔

وانا کے مغرب میں اعظم ورسک اور دیگر علاقوں میں آج بھی خاموشی رہی۔ وفاقی وزیر داخلہ فیصل صالح حیات کے مطابق اب تک کی کارروائی میں پچاس سے زائد شدت پسند ہلاک جبکہ ایک سو تریسٹھ حراست میں لئے جا چکے ہیں۔

ادھر صوبائی دارالحکومت پشاور میں آج حکمراں اتحاد متحدہ مجلس عمل کی جماعتوں جعمیت علما اسلام اور جماعت اسلامی نے وانا میں جاری فوجی کارروائی کے خلاف علیحدہ علیحدہ احتجاجی مظاہرے منعقد کئے۔

جے یو آئی کے مظاہرے میں تو کوئی صوبائی وزیر شریک نہیں تھا البتہ جماعت اسلامی کے جلسے میں سینر صوبائی وزیر سراج الحق نے شرکت کی۔

اسی طرح کا ایک مظاہرہ قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی کے مقام ڈبوری میں بھی ہوا جس میں ہزاروں کی تعداد میں قبائلیوں نے شرکت کی اور حکومت سے وانا کارروائی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے دھمکی دی کہ اس کارروائی کے جاری رہنے سے بقول انکے آگ مزید علاقوں تک پھیل سکتی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد