BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 April, 2004, 16:06 GMT 21:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ کارروائی خارج از امکان نہیں‘

وانا
گزشتہ ماہ ہونے والے وانا آپریشن میں فوج کو بھی جانی نقصان اٹھانا پڑا
پاکستان فوج کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی وزیرستان میں القاعدہ کے مسئلے کے حل کے لئے سیاسی عمل کو جتنا وقت درکار ہوگا دے گی۔

دوسری جانب وانا سے اطلاعات ہیں کہ احمدزئی وزیر قبائل کا جرگہ حکومت کو مطلوب افراد کو ہتھیار ڈالنے پر رضامند نہیں کر سکا۔

پندرہ قبائلی عمائدین نے نیک محمد اور محمد شریف سمیت دیگر مطلوب افراد سے مذاکرات کئے۔ مطلوب افراد نے اپنے آپ کو حکومت کے حوالے کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

اس ناکامی کے بعد زلی خیل قوم کی تین شاخوں کاکاخیل، اتمان خیل اور شپغزئی نے مل کر تقریبا دو ہزار افراد پر مشتمل ایک مسلح لشکر تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے جوکہ باغی افراد کے خلاف توقع ہے کہ اتوار کے روز کارروائی کرے گا۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان سے جمعہ کے روز پشاور میں صحافیوں نے ان مذاکرات کی ناکامی پر ردعمل جاننا چاہا تو انہوں نے کہا کہ بات چیت کے حتمی خاتمے کا انتظار کیا جانا چاہیے۔

 مطلوب قبائلیوں کو ہتھیار ڈالنے اور غیر ملکی افراد کو علاقہ چھوڑ دینے کے لئے دی جانے والی مہلت میں توسیع کرنے کے بارے میں فیصلہ حکومت کرے گی
شوکت سلطان

’آپ کی اطلاع ہے کہ کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہماری اطلاع ہے کہ ہوئی ہے۔ میرے خیال میں مذاکرات کے حتمی فیصلے پر پہنچنے سے پہلے قیاس آرائیاں نہیں کی جانی چاہئیں۔‘

انہوں نے مزید فوج کے وانا پہنچنے کے بارے میں کہا کہ وہاں پہلے سے کافی فوج تعینات ہے۔ ’وہاں تو اتنی فوج موجود ہے کہ اس کی رسد بھی اگر بھیجی جائے تو سوٹرک بن جاتے ہیں۔‘

البتہ فوجی ترجمان نے واضح کیا کہ ضرورت پڑی تو آخری حربے کے طور پر کارروائی بھی کی جاسکتی ہے۔

قبائلی علاقوں میں گزشتہ دو برسوں سے جاری القاعدہ کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں پہلی مرتبہ پشاور میں صحافتی برادری کو صورتحال سے آگاہ کرنے کے لئے پاکستان فوج کی جانب سے بریفنگ کا انتظام کیا گیا۔

تقریبا ایک گھنٹے تک اپنی تقریر میں فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے ذرائع ابلاغ کے کردار پر روشنی ڈالی اور اسے قومی مفادات کو مدنظر رکھنے کی تلقین کی۔

 جنوبی وزیرستان میں اتنی فوج موجود ہے کہ اگر اس کی رسد بھی بھیجی جائے تو سوٹرک بن جاتے ہیں
شوکت سلطان
حکومت ان مطلوب قبائلیوں کو ہتھیار ڈالنے اور القاعدہ کے غیر ملکی افراد کو علاقہ چھوڑ دینے کے لئے بیس اپریل تک کی مہلت دی تھی۔ فوجی ترجمان نے اس مہلت میں اضافے کرنے تا نہ کرنے کے بارے میں کہا کہ اس کا فیصلہ حکومت کرے گی۔

انہوں نے نیک محمد جیسے مطلوب افراد کے اس شک کو بلاوجہ قرار دیا جس میں انہیں امریکہ کے حوالے کئے جانے کی بات کی گئی تھی۔

شوکت سلطان کا موقف تھا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے صاف الفاظ میں وعدہ کیا ہے کہ ہتھیار ڈالنے والوں کو امریکہ کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے گزشتہ دنوں کلوشہ میں فوجی کارروائی کو انتہائی کامیاب قرار دیا اور کہا کہ وہاں جمع القاعدہ کے حامیوں کو منتشر کردیا گیا ہے جو اب بقول ان کے دہشت گردی کی کارروائی کی صلاحیت نہیں رکھتے اور صرف اپنی جان بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

انہوں نے حالیہ فوجی کارروائی میں فوجی جانی نقصان کے بارے میں کہا کہ غیر منظم جنگ میں سکیورٹی دستوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

ادھر زلی خیل لشکر نے اپنے قوائد کا بھی تعین کیا ہے جس کے مطابق لشکر کے ہر ہلاک ہونے والے فرد کے لواحقین کو آٹھ جبکہ زخمی کو تین لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔

قبائلیوں کے بقول اس تعین کے بعد لشکر کی کارروائی کے دوران اگر اب کوئی حادثاتی طور پر بھی زخمی ہوتا ہے تو اسے بھی یہ معاوضہ ملے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد