ہتھیار نہیں ڈالیں گے: نیک محمد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکومت کو القاعدہ کے افراد کو پناہ دینے کے الزام میں مطلوب ایک قبائلی نیک محمد نے ہتھیار ڈالنے کی امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ بی بی سی اردو سروس کے ساتھ منگل کے روز ٹیلیفون پر کسی نامعلوم مقام سے ایک خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ قبائلی روایات کے مطابق مسئلہ کے حل کے لئے تیار ہیں۔ مگر کس طرح، اس کی انہوں نے وضاحت نہیں کی۔ چھبیس سالہ نیک محمد احمدزئی وزیر قبیلے کی شاخ یارگل خیل سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ سولہ برس کی عمر سے افغانستان میں مختلف گروہوں کے ساتھ مل کر روسی افواج کے خلاف مزاحمت میں حصہ لیتے رہے۔ بعد میں وہ طالبان کے رہنما مولوی داد اللہ کے ساتھ مل کر لڑتے رہے۔ ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ نیک کی ماں نے انہیں خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے اسلام کی راہ میں جان کا نذرانہ پیش نہ کیا تو وہ انہیں اپنا دودھ نہیں بخشیں گی۔ نیک محمد شادی شدہ، اور ایک بیٹے اور ایک بیٹی کے والد ہیں۔ حالیہ دنوں میں حکومت اور مقامی جرگے کی جانب سے انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔
ان سے انٹرویو کے آغاز میں پوچھا کہ اس کا کوئی امکان ہے تو ان کا کہنا تھا: ’بالکل نہیں۔ یہ تو قبائل کا صدیوں پرانا رواج ہے۔ قبائلی جب جرم کرتا ہے تو اس کا رواج کے راستے فیصلہ ہوتا ہے۔ حکومت کا جو مطالبہ ہے کہ ہتھیار ڈال دو، یہ بالکل ممکن نہیں۔ پھر بھی دیگر قبائلی ایجنسیوں سے عمائدین اور علما آئے ہیں ان سے ہم نے کہا ہے کہ رواج کے مطابق اگر ہم کو مجرم قرار دیتے ہیں تو ہم مجرم ہیں۔ جو حکومت یا قبائلی فیصلہ کریں وہ ہمیں قبول ہے۔ لیکن قبائلی روایت میں ہتھیار ڈالنا بالکل ممکن نہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے امریکہ کے ایما پر اور ڈالروں کے لالچ میں کئی آپریشن کئے ہیں تاہم اسے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ نیک محمد نے کہا کہ سرکاری اہلکار اور قبائلی مشران ان کے علاقے اور گھروں کی تلاشی لے چکے ہیں اور انہیں القاعدہ یا طالبان کا کوئی رکن ہاتھ نہیں لگا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حالیہ کارروائی صرف امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کو خوش کرنے کے لئے کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ خود کو حکومت کے حوالے کر بھی دیں تو کچھ دن بعد حکومت دوسرے افراد کا مطالبہ کرے گی کیونکہ وہ امریکہ سے رقم کے لالچ میں ایسا کرتی ہے۔ نیک محمد نے بتایا کہ حالیہ کارروائی کے دوران چالیس عورتیں اور بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ ان کے خیال میں تقریباً تین سو سرکاری اہلکار ہلاک ہوئے ہیں اور دو درجن سے زیادہ گاڑیاں بھی تباہ ہوئی ہیں۔ سروکئی میں فوجی قافلے پر حملے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ کسی بھارتی ایجنسی یا شمالی اتحاد یا کسی اور کا کام نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ قبائلی ہی تھے جو بار بار کارروائیوں سے تنگ آچکے تھے۔ نیک محمد نے کہا کہ وہ آئندہ بھی مزاحمت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا: ’جب وہ (صدر مشرف) بش کے کہنے پر کارروائی کر سکتے ہیں تو ہم اللہ کے لئے کیا قربانی نہیں دے سکتے۔ اگر وہ صحیح نیت اور خلوص کے ساتھ ہمارے ساتھ بات کرے تو ہم بھی تیار ہیں۔ اگر وہ قبائلی روایت کے ذریعے بھی ہم سے بات نہیں کرتےتو جو وہ کرسکتے ہیں کریں۔ انشااللہ ہمارے ساتھ بھی اللہ ہے ہم بھی کریں گے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||