القاعدہ سے متعلق دعویٰ واپس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اس دعوٰی سے دستبردار ہوگیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ دنوں جنوبی وزیرستان میں طالبان اور القاعدہ اور انہیں پناہ دینے والے قبائلیوں کے خلاف کیے گئے فوجی آپریش کے دوران القاعدہ کے انٹیلیجنس چیف ہلاک ہوگئے ہیں۔ فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص ایک مقامی شدت پسند تھا نہ کہ القاعدہ کا بین الاقوامی انٹیلیجنس سربراہ۔ شوکت سلطان نے اس شخص کا نام عبداللہ بتایا ہے جو وانا کا رہنے والا تھا اور مقامی سطح پر سرگرم تھا۔ یہ وضاحت ایسے وقت میں کی گئی ہے جب جنوبی وزیرستان میں ان دو سرکاری اہلکاروں کی لاشیں برآمد ہوئیں ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ انہیں مشتبہ شدت پسندوں نے یرغمال بنانے کے بعد ہلاک کر دیا ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے دوران مجموعی طور پر تقریباً ایک سو افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں چھیالیس فوجی اور تریسٹھ مشتبہ جنگجو شامل ہیں۔ فوج کے مطابق ایک سو تریسٹھ مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ تقریباً دو ہفتے تک جاری رہنے والی اس کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کر دیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||