القاعدہ انٹیلیجنس‘ سربراہ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے فوجی حکام نے کہا ہے کہ پاک افغان سرحد کے نزدیک جنوبی وزیرستان کے علاقے میں القاعدہ کے مشتبہ ارکان کے خلاف تازہ ترین کارروائی میں القاعدہ کے ایک اعلیٰ رہنما ہلاک اور ایک کو زخمی کردیا گیا ہے۔ پاک فوج کے ایک ترجمان نے ہلاک ہونے والے شخص کا نام عبداللہ بتایا ہے اور کہا ہے کہ وہ القاعدہ کی انٹیلی جینس کے سربراہ تھے۔ تاہم امریکی حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ ایسے کسی شخص کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ افغان سرحد کے ساتھ اس علاقے میں غیر ملکی مشتبہ افراد کے خلاف اپنا آپریشن جاری رکھیں گے۔ امریکیوں کا کہنا ہے کہ وہ انتظار کررہے ہیں کہ پاکستانی حکام انہیں اس ہلاکت کے بارے میں مزید معلومات فراہم کریں۔ پاکستان کے فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا ہے کہ ابھی وہ اس بارے میں مزید معلومات جاری نہیں کرسکتے۔ فوجی حکام کے مطابق جنوبی وزیرستان میں القاعدہ کے مشتبہ ارکان کے خلاف کارروائی میں تنظیم کا ڈھانچہ توڑدیا ہے۔ دو ہفتوں پر محیط اس آپریشن کا پہلا مرحلہ اتوار کے روز ختم ہوا تھا۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں اب تک چھیالیس سپاہی ہلاک ہوگئے ہیں۔ حکام کا دعوٰی ہے کہ اس آپریشن میں مخالفین کے تریسٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایک سو تریسٹھ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ شوکت سلطان نے بتایا ہے کہ اس کارروائی کا پہلا مرحلہ ختم ہوگیا ہے جس میں، ان کے مطابق، مخالفین کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرکے آپریشن کا ایک بنیادی مقصد حاصل کرلیا گیا ہے۔ حکام نے اتوار کو علاقے کا محاصرہ ختم کردیا تھا اور اپنے کچھ فوجی بھی واپس بلانے شروع کردئے تھے۔ تاہم ترجمان کا کہنا ہے کہ فوجی اس وقت تک علاقے میں رہیں گے جب تک ضروری سمجھا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||