وانا پر تحریک کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ مجلس عمل کی رکن جماعت جمیعت علمائے پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائی اور نیشنل سکیورٹی کونسل کے قیام کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کی جائے خواہ مذہبی اتحاد کو صوبہ سرحد میں اپنی حکومت کی قربانی دینا پڑے۔ متحدہ مجلس عمل نے قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائی کی مخالفت کی ہے تاہم اس نے کوئی عملی احتجاج نہیں کیا۔ جمعرات کو متحدہ مجلس عمل کا سربراہی اجلاس اسلام آباد میں ہورہا ہے جس میں اس کے نۓ سربراہ کا انتخاب اور دوسرے قومی سیاسی امور ایجنڈے پر ہیں۔ بدھ کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں جمعیت علمائے پاکستان کے نائب صدر پیر اعجاز ہاشمی نے جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے معاملہ پر اپنی پارٹی کے سخت موقف کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان فوج قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائی کی تیاریاں کررہی ہے اور افغانستان میں امریکی سفیر زلمے خلیلزاد کا بیان من گھڑت ہے اور ایک سازش ہے تاکہ اس سے پاکستان کی حکومت کو قبائلی علاقہ میں فوجی کاروائی کا بہانہ مل جاۓ اور وہ کہہ سکے کہ اس پہلے امریکی وہاں کاروائی کرتے ہم نے خود کردی۔ انھوں نے کہا کہ کل کے سربراہی اجلاس میں مجلس عمل کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں عملی جدوجہد سے قبائلی علاقوں میں کارروائی کو روکنا ہوگا اور اس کے لیے صف بندی کرنا ہوگی۔ جمیعت علماۓ پاکستان کے رہنما نے کہا کہ ’اگر صوبہ سرحد کی حکومت کی قربانی بھی دینا پڑے تو دے دیں کیونکہ اگر ہم اس صوبہ سے ملحق شہریوں کی ترجمانی نہیں کرسکتے اور مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا خون بہائے جانے کو نہیں روک سکتے تو حکومت میں بیٹھنے کا کیا فائدہ۔‘ پیر اعجاز ہاشمی کی جماعت کی صوبہ سرحد میں کوئی نمائندگی نہیں جہاں متحدہ مجلس عمل میں شامل جمیعت علماۓ اسلام کے دو دھڑے اور جماعت اسلامی کی صوبائی اسمبلی میں نمائندگی ہے اور جمیعت علماۓ اسلام (مولانا فضل الرحمن گروپ) کا وزیراعلیٰ ہے۔ جمیعت علماۓ پاکستان کے رہنما نے کہا کہ جب قاضی حسین احمد نے فوجی کارروائی کے معاملہ پر آٹھ اپریل کے اجلاس میں بات کرنے کی تاریخ مقرر کی تھی اس وقت بھی ان کی جماعت نے کہا تھا کہ اس وقت تک بہت دیر ہوجاۓ گی۔ پیر اعجاز ہاشمی نے کہا کہ وانا میں فوجی کارروائی مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل ہے اور سب جانتے ہیں کہ یہ کون کروارہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت کا مطالبہ ہے کہ مسلمانوں کا قتل بند کیا جاۓ۔ جمیعت علماۓ پاکستان کے نائب صدر نے نیشنل سکیورٹی کونسل کے قیام کے بل کی شدید محالفت کرتے ہوۓ کہا کہ اس ادارے کا قیام ایک مستقل مارشل لا نافذ کرنے کے مترادف ہوگا اور اس میں موجود چھ وردی والے وزیراعظم اور پالیمنٹ کو اپنا ماتحت بنالیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مجلس عمل نیشنل سکیورٹی کونسل کے خلاف ملین مارچ کا آغاز کرے۔ متحدہ مجلس چھ مذہبی جماعتوں کا اتحاد ہے کچھ عرصہ سے خود کو منتشر ہونے سے بچانے کی کوشش کررہا ہے۔ اس میں شامل دو جماعتیں جمعیت اہل حدیث اور جمعیت علماۓ اسلام (س) کچھ عرصہ سے اتحاد کی پالیسیوں سے ناخوش ہیں اور سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کررہیں۔ مجلس عمل کی دو رکن جماعتیں جماعت اسلامی اور جمعیت علماۓ اسلام (ف) بڑی جماعتیں سمجھی جاتی ہیں جن کی پارلیمنٹ میں زیادہ نمائندگی ہے۔ مجلس عمل کی رکن جماعت جمعیت علماۓ اسلام(ف) کی صوبہ سرحد میں وزارت اعلی ہے اور صوبہ بلوچستان کی مخلوط حکومت میں اس کا برابر کا حصہ ہے۔ عام راۓ یہ ہے کہ وہ ان صوبائی حکومتوں کو بچانے کے لیے حکومت کے خلاف بیانات سے آگے جاکر سخت احتجاج کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔ ایسے میں بدھ کو جمعیت علمائے پاکستان کی طرف سے پہلی بار حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ جمیعت علمائے پاکستان کے نائب صدر پیر اعجاز ہاشمی نے زور دے کر کہا کہ ’مجلس عمل میں سب فیصلے اتفاق رائے سے ہوئے اور آئندہ بھی کسی کو اکیلے فیصلے کرنے کی اجازت نہیں دی جاۓ گی۔‘ اس موقف سے عندیہ ملتا ہے مجلس عمل کے جمعرات کے سربراہی اجلاس میں آئندہ لائحہ عمل پر رکن جماعتوں کے درمیان اتفاق راۓ پیدا کرنا شاید آسان نہ ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||