BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وانا: تحصیلداروں کی لاشیں برآمد
News image
وانا آپریشن کے دوران کئی مشتبہ قبائلیوں کے مکانات کو مسمار کر دیا گیا
جنوبی وزیرستان میں اس ماہ کی سولہ تاریخ کو لاپتہ ہونے والے ان دو تحصیلداروں کی لاشیں برآمد کر لی گئیں ہیں جن کے بارے میں حال ہی میں حکومت کا کہنا تھا کہ انہیں القاعدہ اور طالبان کے ارکان کو پناہ دینے والے مشتبہ قبائلیوں نے یرغمال بنایا ہے۔

پشاور سے بی بی سی کے تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان افراد کے نام مطیع اللہ برکی اور میر نواز مروت ہیں۔ مطیع اللہ، بِرمل کی تحصیل میں تعینات تھے جو افغان سرحد کے قریب واقع ہے، جبکہ میر نواز وانا میں تھے۔

اطلاعات کے مطابق جس وقت وانا کے نواح میں فوجی آپریشن شروع ہوا تو یہ دونوں اعظم ورسک اور کالوشا کے علاقے میں تھے۔ اور اس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع موصول نہیں ہو سکی۔

اسی دوران مقامی ملیشیا کے بھی بارہ اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا گیا تھا جنہیں گزشتہ دنوں قبائلی جرگے کی مداخلت کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔

رحیم اللہ کا کہنا تھا کہ پہلے تو سرکاری طور پر کہا گیا کہ یہ دونوں تحصیلدار کسی محفوظ مقام پر اور حکومت سے رابطے میں ہیں اور مناسب موقع پر ظاہر ہو جائیں گے۔ تاہم ایسا نہیں ہوا اور گزشتہ شام ان کی لاشیں ملیں۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ مبینہ شدت پسندوں کے کمانڈروں نیک محمد اور حاجی شریف نے کہا تھا کہ مذکورہ تحصیلدار ان کی تحویل میں نہیں ہیں۔

ان کی ہلاکت کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں۔ بعض خبروں میں کہا گیا ہے کہ انہیں قتل کرکے ان کی لاشیں کالوشا میں ایک کنوئیں میں پھینک دی گئی تھیں۔ جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو جس مکان میں رکھا گیا تھا اس پر آپریش کے دوران ہیلی کاپٹر نے بمباری کی اور دیگر افراد کے ساتھ یہ دونوں تحصیلدار بھی ہلاک ہوگئے۔

تاہم سرکاری طور پر کہا جا رہا ہے کہ انہیں گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

ان ہلاکتوں کے محرکات کے بارے میں رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بعض لوگ یہ قیاس آرائی کر رہے ہیں کہ غالباً ملیشیا کے اہلکاروں کو اس لئے چھوڑ دیا گیا کہ ان کا تعلق قبائلی علاقے سے تھا اور وہ پختوں تھے۔ تاہم اس خیال کو اس تقویت اس لئے نہیں ملتی کہ ہلاک ہونے والے تحصیلدار بھی پختوں تھے اور قرب و جوار کے علاقوں کے باشندے تھے۔

تاہم ممکن ہے کہ اسی علاقے میں تعینات رہنے کی وجہ سے بعض لوگوں کو ان سے کچھ شکایات پیدا ہوگئی ہوں۔

رحیم اللہ کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کے بارے میں تفصیلات اتنی مبہم ہیں کہ حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد