مذاکرات، لشکر کشی ساتھ ساتھ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں زلی خیل قوم کی لشکر کشی کے ساتھ ساتھ ایسی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں کہ پس منظر میں مسئلہ کے حل کے لئے مذاکرات بھی جاری ہیں۔ سنیچر کے روز لشکر نے وانا کے قریب القاعدہ کے ایک مشتبہ قبائلی کے مکان کو مسمار کر دیا البتہ ابھی تک کسی جھڑپ یا گرفتاری کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ جنوبی وزیرستان میں مقامی قبائل نے بل آخر حکومت کے دباؤ کے تحت ان افراد کے خلاف کاروائی شروع کر دی جن پر القاعدہ کے ساتھ روابط کا شبہ ہے۔ یہ قبائل اب تک بظاہر اس کاروائی کے شروع کرنے میں لعت و لیل سے کام لے رہے تھے۔ کاروائی کے پہلے روز ماسوائے ایک مشتبہ شخص کے مکان کے مسمار کئے جانے کے کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔ لیکن وانا سے اطلاعات ہیں کہ پس منظر میں اس مسئلہ کے حل کے لئے خفیہ مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس کی تصدیق جنوبی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالمالک نے بی بی سی سے بات چیت میں کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات فریقین یعنی حکومت اور مطلوب افراد کے درمیان ابتدائی مراحل میں ہیں۔ البتہ انہوں نے ان مذاکرات کے خدوخال یا کب تک کسی فیصلہ کن مرحلے میں پہنچیں گے اس بارے میں کچھ کہنے سے اعتراض کیا صرف اتنا بتایا کہ مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اور جنوبی وزیرستان سے ہی دوسرے رکن قومی اسمبلی مولانا معراج الدین کے ہمراہ سوموار کے روز پشاور گورنر سرحد سے ملاقات کے لئے پہنچ رہے ہیں۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ شاید وہ القاعدہ کے مشتبہ حامیوں کی جانب سے کوئی تجویز لے کر آرہے ہیں۔ مولانا عبدالمالک کا اصرار تھا کہ وہ مذاکرات کی کامیابی پر ہی اس کے نتائج سامنے لائیں گے۔ ادھر قبائلیوں نے حکومت سے منگل کے روز ختم ہونے والی مہلت میں اضافے کا تقاضا بھی کر رہے ہیں۔ البتہ توقع ہے کہ لشکر کی کاروائی کے جاری رہنے تک حکومت کوئی کاروائی شروع نہیں کرے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||