جنگ جیتنا آسان، جرگہ جیتنا مشکل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک پرانی روایت ہے کہ قبائلی علاقے میں ایک عورت نے دوسری عورت سے پوچھا کہ یہ لشکر کیا ہے۔ دوسری عورت نے جواب دیا: ’تیرا شوہر، میرا شوہر مل گئے اور لشکر بن گیا‘۔ ان دنوں جنوبی وزیرستان سے خبریں آ رہی ہیں کہ وہاں مبینہ طور پر القاعدہ اور طالبان ارکان کو پناہ دینے والے زلی خیل قبیلے کے پانچ افراد کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد اب اسی قبیلے کا ایک لشکر تشکیل دیا گیا ہے جو یا تو ’باغی‘ افراد سے ہتھیار ڈلوائے گا یا پھر انہیں علاقہ بدر کرے گا۔ لشکر کو اپنے مقصد میں کتنی کامیابی ہوتی ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ پاکستان کے وفاق کے زیرانتظام پہلے بھی حکومت کی مخالفت یا موافقت میں لشکر بنتے اور نکلتے رہے ہیں۔ ان سطور میں لشکر کی ساخت، قبائلی رواج کے مطابق اس کی قانونی حیثیت اور طریقہ کار کا سرسری ذکر کرنا مقصود ہے۔ لشکر کو پشتو میں لخکر بھی کہتے ہیں۔ چونکہ قبائلی سماج میں تمدنی اداروں کا وجود نہیں ہوتا اس لئے وہاں بہت سے معاملات جرگہ کے ذریعے طے پاتے ہیں۔ اگر علاقے میں کوئی ایک قبیلہ مروجہ دستور سے سرکشی اختیار کرتا ہے یا کوئی بیرونی خطرہ لاحق ہو تو قبائلی باشندے جرگے میں متفقہ فیصلہ کرکے آپس کے چھوٹے یا ذاتی تنازعات کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں اور بڑے چیلنج کا مل کر مقابلہ کرتے ہیں۔ ماضی میں کئی لشکروں کا ذکر ہے۔ یہ لشکر یا تو قبائل کے آپس کے تنازعات کو نمٹانے کے لئے نکالے گئے یا پھر انگریزوں کی قبائلی علاقے میں مداخلت کو ختم کرنے کے لئے نکالے گئے۔ بعض حالات میں حکومت کے ایما پر بھی لشکر بنائے گئے۔ لشکر کے معاملات اور فیصلوں کے لئے نمائندہ افراد پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے جن کا فیصلہ سب پر لاگو ہوتا ہے۔ لشکر میں متعلقہ قبیلے کے تمام بالغ مردوں کی شرکت لازمی ہوتی ہے، سوائے کسی معقول عذر کے۔ بعد میں حالات کے مطابق کنبے کی نمائندگی لازمی قرار پاتی ہے۔ لشکر جتنا جرار ہو وہ قبائلی رواج کا پابند ہوتا ہے۔ قبائلی اس کی توضیح اس ضرب المثل سے کرتے ہیں: ’ماں نے کیسے جنم دیا ۔۔۔۔ دستور کے مطابق‘۔ لہذا لشکر کا دائرہ اختیار بھی قبائلی رواج اور دستور سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ گزشتہ دنوں زلی خیل قبیلے کے پانچ مطلوب افراد میں سے ایک شخص نیک محمد نے بی بی سی اردو کے نمائندے ہارون رشید سے کسی نامعلوم مقام سے گفتگو میں بار بار اس بات پر زور دیا تھا کہ وہ قبائلی دستور اور رواج کے مطابق حکومت اور قبائلی مشران (عمائدین) سے بات کرنے کو تیار ہیں۔ ظاہر ہے کہ انہیں اس بات کا یقین ہے کہ ان کی سرگرمیاں قبائلی رواج کے مطابق غیر قانونی نہیں ہے اسی لئے وہ اس پر مصر تھے۔ پشتو کا ایک اور محاورہ ہے: ’پڑ مے کا، او مڑ مے کا‘ یعنی پہلے عدالت یا جرگے کے سامنے مجرم ثابت کرو اور پھر سزا دو۔ یہ محاورہ ہی نہیں بلکہ ’علم قانون‘ کا ایک مسلمہ عالمی اصول بھی ہے۔ گویا لشکر چاہے جتنا جرار ہو، قانون اور قاعدے سے باہر کارروائی ایک ایسے تنازع کو جنم دے سکتی ہے جو نسل در نسل انتقامی سلسلے پر منتج ہو سکتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ لشکر کے معاملات چلانے والے مشران پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں۔ لشکر بن جانے کے بعد اس میں شامل افراد پرچم اٹھائے ہوئے منزل مقصود کی جانب چل پڑتے ہیں۔ ان کے ساتھ علاقے کے نائی بھی ہوتے ہیں جو راستے میں ڈھول بجاتے چلتے ہیں۔ ڈھول کی تاپ لشکر کے مارچ پاسٹ کے لئے فوجی بینڈ کا کام کرتی ہے۔ راستے میں جہاں نماز کا وقت ہوتا ہے لشکر پڑاؤ ڈال دیتا ہے اور قریبی بستی والوں کے ذمہ ان کی نماز کا اہتمام اور کھانے اور چائے کا انتظام ہوتا ہے۔ اسی طرح لشکریوں کے لئے رات کے قیام کا بندوبست بھی راستے میں واقع گھروں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ منزل مقصود پر پہنچ کر لشکر مطلوبہ افراد یا ان کے اقارب سے جرگہ کا آغاز کرتا ہے۔ جرگہ میں بعض اوقات ثالث یا مبصر بھی شریک ہوتے ہیں تاکہ وہ فیصلہ کے مبنی بر انصاف ہونے کی توثیق کریں۔ اگر معاملہ بات چیت سے حل نہ ہو تو پھر فریقین مورچہ بند ہوکر زور بازو کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تاہم قبائلی معاشرے میں جنگل کا قانون زیادہ دیر نہیں چل پاتا۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ ’جنگ جیتنا آسان ہے اور جرگہ جیتنا مشکل‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||