BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 March, 2004, 23:35 GMT 04:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لشکر کارروائی کے لئے تیار

مسلح لشکر
حملہ وانا کے قریب اعظم ورسک کے علاقے میں ہو سکتا ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ذلی خیل قبائل کا تشکیل کردہ چھ سو مسلح افراد کالشکر القاعدہ کے ارکان یا انہیں پناہ دینے والے مقامی افراد کے خلاف متوقع کارروائی کا آغاز کرنے والا ہے۔

ادھر جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے القاعدہ کے حامیوں کی موجودگی کے شک میں ایک مدرسے پر چھاپہ مارا ہے جس میں تین افراد کو حراست میں لینے کی اطلاع ہے۔

حکومت کے دباؤ کی وجہ سے جنوبی وزیرستان کے احمد زئی وزیر قبائل کی سب سے بڑی ذیلی شاخ ذلی خیل نے دو روز قبل جس مسلح لشکر کے قیام کا اعلان کیا تھا بظاہر اُس کے حرکت میں آنے کا وقت آگیا ہے۔ اِن قبائل نے حکومت کو مطلوب افراد کو ہتھیار ڈال دینے کے لئے دو روز کا وقت دیا تھا۔

مطلوب افراد
 حکومت کو پانچ مقامی قبائلی مطلوب ہیں جن پر اسے شک ہے کہ انہوں نے القاعدہ کے ارکان کو پناہ دے رکھی تھی

مطلوب افراد کی جانب سے مثبت جواب نہ ملنے پر ان کے خلاف مسلح کارروائی جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے بارہ کلومیٹر مغرب میں افغان سرحد کے قریب اعظم ورسک کے علاقے میں ہو سکتی ہے۔

حکومت کو پانچ مقامی قبائلی مطلوب ہیں جن پر اسے شک ہے کہ انہوں نے القاعدہ کے ارکان کو پناہ دے رکھی تھی۔ ان میں حاجی شریف، اس کا بھائی نور اسلام، مولوی عباس، نیک محمد اور مولوی عزیز شامل ہیں۔ ماضی میں انہیں گرفتار یا اپنے آپ کو حکام کے حوالے کرنے کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں۔ حکومت کی جانب سے انہیں کسی دوسرے ملک کے حوالے نہ کرنے کے رعایتی اعلان کا بھی ان پر بظاہر کوئی اثر نہیں ہوا ہے۔

اعظم ورسک کے علاقے میں پاکستانی فوج اس سے قبل تین کارروائیاں کر چکی ہے تاہم توقع ہے کہ تازہ کارروائی صرف قبائلی کریں گے جبکہ مقامی حکام ان کی نگرانی کریں گے۔

ادھر ڈیرہ اسماعیل خان سے اطلاعات ہیں کہ جمعے کی رات قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مدرسہ فاروق اعظم نامی ایک دینی درس گاہ پر چھاپہ مارا ہے اور اس کے مُہتمم قاری محمد اشفاق کے علاوہ دو دیگر افراد کو حراست میں لیا ہے۔

حکام کو شک تھا کہ جنوبی وزیرستان سے فرار ہونے والے القاعدہ کے لوگ یہاں موجود ہیں۔ البتہ حراست میں لئے جانے والے تمام افراد مقامی بتائے جاتے ہیں جبکہ قاری محمد اشفاق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بھی کافی قریب ہیں۔ اس بارے میں جے یو آئی کا ردعمل ابھی سامنے نہیں آیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد