BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 March, 2004, 12:25 GMT 17:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
روایات میں قید قبائلی

وانا میں جرگہ
اس علاقے میں صدیوں پرانی روایات اب بھی زندہ ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے ملک کا اہم حصہ ہیں لیکن ملک سے بالکل مختلف پسماندہ کہلانے والے ان علاقوں کو تاریخ نے ایک مرتبہ پھر اہم موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔

القاعدہ کی وجہ سے عالمی توجہ کا مرکز بنا یہ علاقہ ایک مرتبہ پھر اپنی آزادی، ثقافت اور روایات برقرار رکھنے کی جنگ میں مصروف ہے۔ دوسری جانب یہ علاقہ جدید ٹیکنالوجی سے بھی کوسوں دور ہے جو اسے ملک کے دیگر علاقوں کے برابر لانے میں مدد دے سکتی تھی۔ جنوبی وزیرستان جیسے دور دراز علاقوں میں زندگی آج بھی پرانے وقتوں میں جکڑی ہوئی ہے۔

اپنے محل وقوع کی وجہ سے حساس، اپنی روایات اور ثقافت کی وجہ سے منفرد اور آج کل القاعدہ کی وجہ سے زیر عتاب پاکستان کی مغربی سرحد پر بسنے والے قبائلی ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ وقت کے حکمرانوں کے ساتھ ان کا تناؤ کوئی نئی بات نہیں۔ انگریزوں سے لے کر آج تک انہوں نے اپنی آزاد حثیت برقرار رکھنے کے لئے ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ شاید اسی لئے انہیں ترقی کے میدان میں جان بوجھ کر نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔

قبائلی معاشرے میں باہمی صلاح مشورے کے لئے آج بھی صدیوں پرانے طریقے سے جاندار اور شور سے بھر پور جرگے منعقد کئے جا رہے ہیں۔ قبائلی علاقوں خاص کر اس کی آخری جنوبی سرحد یعنی جنوبی وزیرستان کے مرکز وانا میں آج کل یہ روایتی جرگے تقریباً روزانہ ہی منعقد ہورہے ہیں۔

کُھلے آسمان تلے ایک بڑے سے دائرے کی شکل میں زمین پر بیٹھے سروں پر بڑی بڑی رنگ برنگی پگڑیاں سجائے قبائلی سردار یہ سوچ بچار کرتے نظر آتے ہیں کہ حکومت کے دباؤ کا مقابلہ کس طرح کیا جائے۔ اس بارے میں حکومت ان قبائلیوں سے القاعدہ کے خلاف صرف تعاون کی طلب گار نہیں بلکہ وہ چاہتی ہے کہ امن کی خاطر یہ اسلحہ لے کر چلنے جیسی صدیوں پرانی روایت بھی اب چھوڑ دیں۔

وانا کے علاؤالدین جیسے ترقی پسند نوجوان اسے اچھا اقدام مانتے ہیں۔ ’اوروں کی شاید اور رائے ہو۔ میرے خیال میں یہ انتہائی مناسب اقدام ہے۔ اس سے ماحول بہتر ہوگا۔‘

اسلحہ اگرچہ یہاں قانون ہے لیکن وانا میں ایک اسپتال کے اہکار نے بتایا کہ ان کے پاس زیادہ کیس بھی اسلحہ سے زخمی ہونے والوں کے ہی آتے ہیں۔ لیکن اسلحہ پر پابندی کے مخالفین چند ضمانتوں کا تقاضا کرتے ہیں۔

گل خان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت انہیں تحفظ کا یقین دلا دے تو یہ فیصلہ قابل قبول ہوسکتا ہے کیونکہ یہاں ہر کسی کی دشمنیاں ہیں۔’ کسی کو دوسرے کا اعتبار نہیں۔‘

جنوبی وزیرستان کے پولیٹکل ایجنٹ محمد اعظم خان کا کہنا ہے کہ اسلحہ رکھنا عادت تھی آہستہ آہستہ ختم ہوجائے گی۔ ’بندوق اٹھانے والا کندھا بھی وقت کے ساتھ ساتھ اپنی جگہ آ جائے گا۔ ہر فیصلے کا ایک وقت ہوتا ہے اور اس فیصلے کا اس سے بہتر وقت نہیں ہوسکتا تھا۔‘

اسلحہ لیکر چلنے کی روایت کا خاتمہ شاید مشکل نہ ہو لیکن حکام کو فی الحال قبائلیوں کی القاعدہ اور طالبان کے بارے میں سوچ تبدیل کرنے میں زیادہ دقت پیش آرہی ہے۔

قبائلیوں کا کہنا ہے کہ انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ کل تک کے مجاہد یکسر دہشت گرد کیسے ہوگئے۔ قبائلی سردار ملک بہرام خان کا غصے بھرے لہجے میں کہنا تھا کہ طالبان کو تربیت دینے والے تو جنرل ضیاء اور باقی فوجی ہی تھے۔ پھر اب کیوں وہ ان کے دشمن ہوگئے ہیں۔

اگرچہ تمام قبائلی علاقہ سوچ یا روایات کی تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے یا گزارا جا رہا ہے لیکن مجموعی طور پر کئی لوگوں کا کہنا ہے کے ترقی کے اعتبار سے یہ علاقہ آج بھی ستررہویں صدی میں پھنسا ہوا ہے۔ اکثر قبائلی علاقے آج بھی بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہیں۔ پاکستان کے چھپن سال کے طویل عرصے کے دوران بھی یہاں بجلی، پینے کا صاف پانی، صحت کی سہولتیں اور سڑکیں مہیا نہیں کی جاسکیں۔

وانا کی چوکی
وانا اکیلا رہ گیا ہے

سینیئر قبائلی صحافی سیلاب محسود کو شکایت تھی کہ دنیا کیا سے کیا ہوگئی لیکن قبائلی علاقہ آج بھی مذہبی جنونیت اور روایات کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔

’ترقی یہاں نہ ہونے کے برابر ہے۔ سڑکیں نہیں، سکول نہیں غرض یہ کہ یہ آج بھی ملک کا پسماندہ ترین علاقہ ہے۔‘

تعلیم نامساعد حالات کو بہتر بنانے میں انسان کو مدد دیتی ہے۔ لوگوں کے خیال میں ان علاقوں میں انتہا پسندی کی بڑی وجہ تعلیم کی کمی ہے۔ لیکن اس جانب بھی عام رجحان میں مثبت تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔ وانا کے ایک مُدرس علی شاہ خان نہ بتایا کہ قبائلیوں کو اب احساس ہوا ہے کہ تعلیم کے بغیر ان کا گزارہ نہیں۔

’پہلے تو قبائلی کہیں باہر جایا نہیں کرتے تھے لیکن اب کام کے لئے جاتے ہیں اور انہوں نے دیکھ لیا ہے کہ باقی دنیا کے مقابلے میں وہ تعلیم کے بغیر کہاں کھڑے ہیں لہذا انہوں نے اب اس میں دلچسپی لینی شروع کر دی ہے۔‘

البتہ علاقے میں فوجی کارروائیوں کا تعلیمی سرگرمیوں پر بھی کوئی اچھا اثر نہیں پڑا ہے۔ وانا کے ایک نجی سکول کے استاد مزمل خان کا کہنا ہے کہ علاقے میں عسکری کارروائیوں اور ہلاکتوں نے طلبہ کو خوفزدہ کر دیا ہے۔

دنیا انٹرنٹ جیسی جدید ٹیکنالوجی کے باعث عالمی گاؤں کی شکل اختیار کر رہا ہے لیکن یہ علاقہ کسی گاؤں کا شاید وہ بنجر علاقہ تصور کر لیا گیا ہے جس پر کسی توجہ کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی ہے۔ بارہا سرکاری دعوؤں کے باوجود یہاں ترقی کا عمل کچھوے کی چال چل رہا ہے۔ صنعت و زراعت نہ ہونے کی وجہ سے نوکریاں کوئی نہیں۔ اکثر عرب ممالک میں کام تلاش کرتے ہیں اور جو نہیں کر پاتے وہ گھر پر بندوق سے کھیلتے رہتے ہیں۔ بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ترقی اور تفریح کا عمل روکا ہوا ہے۔ ٹیلیفون کی سہولت بھی ایک محدود علاقے تک میسر ہے جبکہ انٹرنٹ اس سے بھی کم۔

وانا کے مجیب الرحمان کا کہنا تھا کہ بجلی کے نہ ہونے سے وہ جدید سہولتوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔

تاہم کچھ دیگر قبائلی علاقوں میں صورتحال یکسر مختلف ہے۔ کرم کی ایک غیرسرکاری تنظیم کے اہلکار محمد شفیق کا کہنا تھا کہ ان کے پارا چنار میں چھ سات انٹرنٹ کیفے کھل چکے ہیں۔

’نوجوان نسل اس سے بھر پور استفادہ کر رہے ہیں۔ وہ دنیا سے رابطے میں ہیں اور صحیح معنوں میں گلوبل ویلج کا حصہ ہیں۔‘

لیکن چند قبائلی انٹرنٹ پر تو نہیں لیکن ٹیلی وژن پر اعتراض کرتے ہیں۔ ٹیلی وژن چینلز بھی پاکستانی نہیں بلکہ غیرملکی کیونکہ ان علاقوں میں سے اکثر پاکستانی سرکاری ٹی وی کی نشریات بھی ندارد ہیں۔ ایسے حالات میں اکثریت کا خبروں کے لئے انحصار آج بھی ریڈیو پر ہے۔ موجودہ حالات میں قبائلیوں کے لئے دلچسپی کی بڑی خبر ترقی کی سست رفتاری نہیں بلکہ پاکستانی فوج کی بڑی تعداد میں موجودگی اور القاعدہ کے خلاف کارروائیاں ہیں۔ ہر کسی کو بین الاقوامی ریڈیو نشریات کا انتظار رہتا ہے۔ اس کے علاوہ سنی سنائی باتوں پر ہی انہیں اکتفا کرنا پڑتا ہے۔

لیکن حکومت اور قبائلی سرداروں کو امید ہے کہ دونوں کے درمیان کشیدہ تعلقات جلد معمول پر آجائیں گے۔

ملک نور علی کا کہنا ہے کہ قبائل حکومت سے تعاون کر رہے ہیں اور اسے مزید بہتر بنائیں گے جبکہ قبائلی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے دو تین ماہ میں حالات معمول پر آجائیں گے۔

قبائلی علاقوں میں برسوں سے کھیلے جانے والے شطرنج کے کھیل کے تمام کھلاڑیوں کو یہ بات معلوم ہے کہ موجودہ غیر یقینی صورتحال کے خاتمے، پرسکون حالات کے قیام، تعلیم کے عام ہونے اور ترقی کے عمل میں ہنگامی بنیادوں پر تیزی لائے بغیر اس قبائلی علاقے کی تقدیر نہیں بدلی جاسکتی۔ یہ کب ہوگا اس کا انتظار ہم سب کو ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد