القاعدہ کی تلاش، قبائل کا تعاون | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں احمدزئی وزیر قبائل کی بڑی شاخ ذلی خیل نے القاعدہ اور طالبان کی تلاش میں حکومت کی مدد کے لئے تقریبا چھ سو افراد پر مشتمل مسلح لشکر تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اعلان اتوار کو ایجنسی کے صدر مقام وانا میں قبائلی علاقوں کے ایوان بالا یا سینٹ کے اراکین کی کوششوں سے منعقد ذلی خیل قبیلے کے ساتھ ایک جرگے میں کیا گیا۔ جرگے سے خطاب میں فاٹا کے سینٹروں نے جن میں حمید اللہ جان، محمد طاہر اور اجمل خان شامل تھے، قبائلیوں پر واضح کیا کہ وہ اپنے علاقے سے مشتبہ شدت پسندوں کو خود ہٹا دیں یا حکومت کو یہ کام کرنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں صورتوں میں انکار سے بیرونی کاروائی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ اس پر جرگے نے فیصلہ کیا کہ تقریبا چھ سو مسلح افراد پر مشتمل ایک مشترکہ لشکر تشکیل دیا جائے گا جوکہ حکومت کی جانب سے القاعدہ کے مشتبہ افراد کی نشاندہی پر ان کے خلاف کاروائی کرے گا۔ اس سے قبل ذلی خیل میں شامل تین بڑی قوموں اتمان خیل، کا کاخیل اور شغپوزئی میں اس لشکر کی تشکیل پر اختلافات پائے جاتے تھے۔ جرگہ نے فیصلہ کیا کہ ہر قوم اپنے علاقے میں کارروائی کی ذمہ دار ہوگی۔ قبائلیوں کی خواہش ہے کہ علاقے میں کارروائیاں فوج کی جگہ وہ خود یا مقامی خاصہ دار فورس یا نیم فوجی ملیشا کرے۔ البتہ حکومت کا کہنا ہے کہ فوج کارروائی کا حق رکھتی ہے۔ اس سے قبل بھی مختلف قوموں نے لشکر تشکیل دینے کے اعلان کئے تھے لیکن وہ ابھی تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے۔ مبصرین کو خدشہ ہے کہ یہ تازہ فیصلہ بھی بے اثر ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ مقامی قبائل میں اسے عمل جامہ پہنانے کے لئے جوش اور جذبے کی کمی نظر آرہی ہے۔ حکام کو شک ہے کہ بڑی تعداد میں القاعدہ سے منسلک غیرملکی افراد علاقے میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||