’دہشتگردی: مذہب سے تعلق نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے وزیرخارجہ جیک سٹرا نے پشاور یونیورسٹی میں اساتذہ اور دانشوروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا کسی بھی مذہب سے تعلق نہیں ہے اور اگر اسے کسی مذہب سے جوڑنے کی کوشش کی جائے گی تو پھر مختلف قوموں میں غلط فہمیاں پیدا ہوں گی جو کشیدگی کو جنم دیں گی۔ پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس کے مطابق تقریب میں ان سے کئی سوالات کیے گئے۔ اور جیک سٹرا نے اس بات کو تسلیم کیا کہ انتہا پسندی کے بھی اسباب ہوتے ہیں اس لئے انتہا پسندی کو ختم کرنے کے لئے ان وجوہات کا دور کیا جانا ضرور ی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کشمیر اور فلسطین کے تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیئے۔ اس سے قبل وہ پشاور میں ایک دینی مدرسے جامعہ مسجد الدوریش بھی گئے۔ ان کا پشاور کا دورہ غیر سرکاری نوعیت کا تھا جس کا مقصد مغرب اور اسلام کا مابین موجود غلط فہمیوں کو دور کرنا تھا۔ دینی مدرسے جانے کا مقصد یہ تھا کہ وہ یہ تاثر دیں کے مغربی دنیا تمام دینی مدارس کے بارے میں شاکی نہیں ہے۔ وہ ایک جانب تو مغرب کو یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ تمام مدارس انتہا پسندوں کو تربیت نہیں دیتے اور اسلامی معاشرے میں رواداری موجود ہے۔ دوسری طرف وہ اسلامی دنیا میں موجود اس تاثر کو زائل کرنا چاہتے تھے کہ مغرب اسلام دشمن ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ ایک مغربی رہنما کی طرف سے اسلامی دنیا اور مغربی ممالک میں حائل خلیج کو پاٹنے کی کوشش ہے اور یہ تہذیبوں کے درمیان مکالمے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ تاہم دونوں جانب جس طرح کی سوچ پائی جاتی ہے اسے بدلنے کے لئے کافی کچھ کرنا باقی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||