BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت، قبائلی مفاہمت اور امریکہ

News image
مقامی انتظامیہ اور قبائلی عمائدین کی وساطت سے فوج اور مطلوب قبائلیوں میں مفاہمت مکمن ہو سکی
حکومت پاکستان اور مبینہ طور پر القاعدہ اور طالبان ارکان کو پناہ دینے والے قبائل کے مابین مفاہمت شاید امریکہ کے لئے زیادہ خوش کن نہ ہو۔

لیکن افغان سرحد کے قریب پاکستانی فوج کی کارروائی کا خاتمہ یقیناً حکومت اور قبائلیوں کے لئے قدرے سکون کا باعث ہوگا۔

یہ الگ بات ہے کہ مفاہمت تک پہنچتے پہنچتے فریقین کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ ایک اندازے کے مطابق دونوں جانب ایک سو افراد ہلاک ہوئے۔

اس کارروائی سے جنرل مشرف کی شہرت کو بھی دھچکا لگا۔

یہ معاملہ کیسے طے پایا اس کی تفصیلات شاید کبھی منظرعام پر نہ آسکیں۔ تاہم حکام کہتے ہیں کہ مطلوب قبائل نے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ وہ افغانستان میں کسی مزاحمت میں حصہ نہیں لیں گے۔

جبکہ غیر ملکی جنہوں نے افغانستان پر روسی قبضہ کے خلاف جنگ میں حصہ لیا تھا اور تقریباً بیس برس سے اس علاقے میں موجود ہیں حکومت کے پاس اپنا اندراج کروائیں گے۔

اس کے جواب میں حکومت نہ تو انہیں گرفتار کرے گی اور نہ ہی زبردستی ملک بدر کرے گی۔

حکومت کے ناقدین کہتے ہیں کہ یہ مفاہمت حکومت کی اپنے سابقہ موقف سے پسپائی کے مترادف ہے جس میں اس نے عہد کیا تھا کہ وہ قبائلی علاقے کو القاعدہ اور طالبان ارکان اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں سے پاک کرے گی۔

یہ مفاہمت کئی قبائلیوں اور پاکستان کے چھ جماعتی مذہبی اتحاد، متحدہ مجلس عمل، کے لئے اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ اس طرح محدود پیمانے پر ہی سہی اس نیم خود مختار علاقے میں بغاوت کا خطرہ ٹل گیا ہے۔

ایک وقت تو وہ آگیا تھا جب کارروائی کے دوران کئی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ایک مقامی فوجی کمانڈر نے دھمکی دیدی کہ باغیوں سے انتہائی سختی سے نمٹا جائے گا۔ تاہم بعد میں فوجی کارروائی کی ملک کے مختلف حلقوں کی جانب سے مخالفت کے بعد مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے کو ترجیح دی گئی۔

حکومت اس بات سے انکار کرتی ہے کہ وہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹی ہے۔

قبائلی علاقوں میں امن و سلامتی کے نگراں بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ کا کہنا ہے کہ موجودہ طرزعمل جنرل مشرف کی وضع کردہ پالیسی کے تحت اختیار کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ مارچ میں قبائلی عمائدین سے خطاب میں جنرل مشرف نے کہا تھا کہ جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی ان القاعدہ اور طالبان ارکان کے خلاف کی جا رہی ہے جو افغانستان میں پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے علاقے میں برسوں سے آباد غیرملکیوں کو بھی یقین دہانی کروائی تھی کہ اگر وہ ہتھیار ڈال دیں تو انہیں بے دخل نہیں کیا جائے گا۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ جنوبی وزیرستان میں صورتحال سے نمٹنے میں بد احتیاطی سے کام لیا گیا۔ اور یہ ہی سبب ہے کہ فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

بالآخر قبائلی عمائدین کی مداخلت اور مصالحت سے ہی صورتحال کو وقتی طور پر ہی سہی قابو میں لایا گیا ہے۔

تاہم اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ امریکہ جو ماضی میں ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں پاکستانی فوج کے کردار کی تعریف کرتا رہا ہے کیا اس مفاہمت کو تسلیم کر لےگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد