وانا: ہتھیار ڈالنے کی مہلت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکومت نے سنیچر کے روز القاعدہ کی مدد کے الزام میں مطلوب افراد کو گلے لگاتے ہوئے وہاں چھپے غیر ملکیوں کو تیس اپریل تک ہتھیار ڈالنے کی مہلت دی ہے۔ اس نئی مہلت کا اعلان وانا کے شمال میں شکئی کے مقام پر پاکستان فوج کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے کیا۔ اس موقع پر حکومت کو مطلوب پانچ میں سے چار نے حکومت سے وفادار رہنے کا عہد کیا ہے۔ تقریبا تین ہفتے قبل تک جنوبی وزیرستان میں جو لوگ ایک دوسرے کے خلاف اسلحے کا آزادانہ استعمال کر رہے تھے وہ آج مصافحہ کر رہے تھے اور جو ایک دوسرے کو امریکی ایجنٹ اور دہشت گرد قرار دے رہے تھے وہ بغل گیر تھے اور گزشتہ تلخیوں کو غلط فہمی کا نتیجہ قرار دے رہے تھے۔
تقریبا پانچ گھنٹے تاخیر سے شروع ہونے والی اس تقریب میں حکومت کو مطلوب افراد اور ہزاروں کی تعداد میں قبائلیوں کے علاوہ پاکستان فوج کے کور کمانڈر پشاور لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین کے علاوہ انسپکٹر جنرل فرنٹیر کور اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ مدرسے کا احاطہ قبائلیوں سے کھچا کھچ بھرا تھا جنہوں نے فوجی حکام کی آمد پر زندہ باد کے نعروں سے ان کا استقبال کیا۔ قبائلی سردار رنگ رنگ کی پگڑیاں پہنے تمام دن تقاریر کرتے رہے جس میں گزشتہ دنوں کے واقعات کو غلط فہمی قرار دیا۔
وانا سے صبع سینکڑوں گاڑیوں کی ایک لمبی قطار شکئی روانہ ہوئی۔ شکئی جانے کے لئے کرائے کی گاڑیاں کم پڑ گئیں جبکہ کئی ٹیکسی ڈرائیوروں نے کئی گنا زیادہ کرایہ بھی وصول کیا۔ اس موقع پر نیک محمد، حاجی شریف، مولوی محمد عباس اور نور الاسلام نے کور کمانڈر کو ہار پہنائے اور بغل گیر ہوئے۔ فوجی حکام کو قبائل کی جانب سے کلاشنکوف، جائے نماز، مسواک اور لنگیاں بطور تحفہ بھی پیش کئے۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں کور کمانڈر نے قبائلی سے درخواست کی کہ وہ غیرملکیوں سے رابطہ کریں اور انہیں ہتھیار ڈال کر حکومت کے پاس اندراج پر راضی کریں۔
لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین نے اعلان کیا کہ پچھلی فوجی کاروائی میں حراست میں لئے گئے ایک سو ساٹھ افراد میں سے بے گناہ افراد کو جلد از جلد رہا کر دیا جائے گا جبکہ پچاس افراد کی پہلی کھیپ اتوار کے روز سے وانا پہنچنا شروع ہوجائے گی۔ انہوں نے اس موقع پر جنوبی وزیرستان کے لئے نو کروڑ روپے سے زائد رقم کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تقریب نے واضع کر دیا ہے کہ شکئی کا علاقہ دہشت گردوں کا گڑھ نہیں رہا۔ نیک محمد نے اپنی تقریر کا آغاز اردو کے ایک شعر سے کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی پاکستان کا ایٹم بم اور فوجی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان کا گھر ہے اور اگر حکمراں فوج اور قبائلیوں کا درست استعمال کیا جائے تو وہ پوری دنیا کا سامنا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے امریکہ کا ذکر نہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو کسی کے کہنے پر ان کے خلاف کاروائی شروع نہیں کرنی چاہیے تھی بلکہ پہلے انہیں صفائی کا موقع دینا چاہیے تھا۔ انہوں نے حکام سے کہا کہ وہ ماضی کی تلخیاں اور الزامات بھلا دیں اور اس کا کبھی دوبارہ زکر نہ کریں۔’یہ غلطیاں چاہے ہماری ہوں یا فوج کی انہیں بھلا دیا جانا چاہیے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||