لشکر کی کارروائی کا آغاز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں زلی خیل قوم کے تقریباً دو ہزار افراد پر مشتمل مسلح لشکر نے آج ان کے ہی قبیلے سے تعلق رکھنے والے حکومت کو مطلوب پانچ افراد کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ روایتی ڈھول کی تال پر زلی خیل کی تین شاخوں شاخپوزید، کاکاخیل اور اتمان خیل کے نوجوانوں پر مشتمل لشکر نے وانا سے اتوار کی صبح شالم کے علاقے کی جانب کوچ کیا۔ یہ افراد گاڑیوں کے علاوہ پیدل بھی یہ سفر طے کریں گے۔ وانا کے ایک رہائشی محمد خان وزیر نے بتایا کہ لشکر کلاشنکوف اور دیگر ہلکے ہھتیاروں کے ساتھ پوری طرح مسلح اور ہر صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہے۔ اس سے قبل مطلوب افراد کو زلی خیل نے ہتھیار ڈالنے کے لئے اتوار تک کی مہلت دی تھی۔ یہ مہلت کئی ہفتوں سے جاری مذاکرات کی بظاہر ناکامی کے بعد دی گئی تھی۔ مبصرین کے خیال میں مطلوب افراد کی جانب سے اپنے آپ کو حکومت کے حوالے کرنے کے امکانات کافی کم نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے جنوبی وزیرستان میں بظاہر ایک مرتبہ پھر صور تحال طاقت کے استعمال کی جانب بڑھتی نظر آ رہی ہے۔ چاہے یہ طاقت کا استعمال حکومت کی جانب سے ہو یا قبائلیوں کی۔ تنازع کے حل کے لئے بات چیت یعنی جرگوں کا بظاہر ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ کئی ہفتوں بلکہ مہینوں سے جاری ہے لیکن کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ زلی خیل قبیلے کے ایک جرگے سے حالیہ ملاقات میں مطلوب افراد نے جن میں نیک محمد بھی شامل ہیں ہتھیار ڈالنے سے صاف انکار کر دیا ہے جس کے بعد اس مسئلہ کا پرامن حل بظاہر نکلتا نظر نہیں آتا۔ زلی خیل قبیلے نے اب ان افراد کو ہتھیار ڈالنے کی اتوار تک کی مہلت دی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے اس قبیلے کو دی جانے والی بیس اپریل کی مہلت میں بھی صرف دو روز بچے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ چند قبائلی حکومت سے بیس اپریل کی مہلت میں اضافے کا بھی تقاضا کر رہے ہیں۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا ہے کہ اس مہلت میں اضافہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس لئے اس کے بارے میں فیصلہ بھی حکومت ہی کرے گی۔ وانا میں مقامی قبائلیوں کا کہنا ہے کہ زلی خیل قبیلے کی تین شاخوں نے مشترکہ کارروائی کے لئے تقریبا دو ہزار افراد پر مشتمل مسلح لشکر تشکیل دے دیا ہے جوکہ اپنے ہی قبیلے کے باغی افراد کے خلاف کارروائی کرنے میں اس مرتبہ انتہائی سنجیدہ اور پرجوش نظر آتے ہیں۔ لیکن یہاں مبصرین کا سوال ہے کہ آیا یہ لشکر اُن افراد کو پکڑنے میں کامیاب رہے گا جو پاکستانی سیکیورٹی دستوں کے ہاتھ نہیں آسکے۔ کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ یہ مطلوب افراد پہلے ہی علاقہ چھوڑ کر قدرے محفوظ مقامات پر منتقل ہوچکے ہیں۔ لشکر کا نیک محمد کے مکان مسمار کرنے کے ارادے کے بارے میں اعلان بھی حیران کن ہے کیونکہ پاکستان فوج یہ کام گزشتہ دنوں کارروائی میں مکمل کر چکی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||